ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے ضلع بھر میں منافع خوری، ذخیرہ اندوزی اور غیر معیاری اشیائے خورونوش کی فروخت کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ صارفین کے حقوق کے تحفظ، سرکاری نرخوں پر عملدرآمد اور معیاری اشیائے ضروریہ کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ڈسٹرکٹ پرائس کنٹرول کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ سرکاری نرخوں کی خلاف ورزی، غیر معیاری یا مضر صحت خوراک کی فروخت اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والے عناصر کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خلاف ورزی کرنے والوں پر بھاری جرمانے، مقدمات کا اندراج اور قانون کے مطابق دیگر سخت کارروائیاں عمل میں لائی جائیں گی۔
اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز، پولیس، تحصیل انتظامیہ، تاجر برادری، سول سوسائٹی، لیبر ڈیپارٹمنٹ، صنعتی نمائندوں اور متعلقہ محکموں کے حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر مرغی، گائے اور بکرے کے گوشت، دودھ، آٹا، چینی، گھی، کریانہ، سبزیوں، پھلوں اور مچھلی سمیت اشیائے ضروریہ کی دستیابی، قیمتوں اور معیار کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر نے تمام دکانداروں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی دکانوں پر سرکاری نرخ نامے نمایاں طور پر آویزاں کریں، جبکہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور ضلعی انتظامیہ کے افسران کو روزانہ مشترکہ مارکیٹ انسپکشن کرنے کا حکم دیا تاکہ منافع خوری، ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت کا مؤثر خاتمہ کیا جا سکے۔
انہوں نے ہوٹلوں، ریسٹورنٹس اور دیگر فوڈ آؤٹ لیٹس کی باقاعدہ جانچ پڑتال کی بھی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ صفائی اور فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کاروباری مراکز کو سیل کرنے سمیت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ مزید برآں جیوانی، پسنی اور اورماڑہ کے لیے مقامی مارکیٹ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے الگ الگ سرکاری نرخ نامے جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ مختلف علاقوں میں صارفین کو منصفانہ قیمتوں پر اشیائے ضروریہ دستیاب ہوں۔
ڈپٹی کمشنر نے یہ بھی ہدایت کی کہ ذبح سے قبل تمام مویشیوں کے لیے ویٹرنری ہیلتھ سرٹیفکیٹ لازمی ہوگا، جبکہ خصوصی معائنہ مہم کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ شہریوں کو صرف صحت مند اور معیاری گوشت فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ شفاف مارکیٹ نظام، معیاری اشیائے ضروریہ کی مناسب قیمت پر فراہمی اور صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے بلاامتیاز کارروائیاں جاری رکھے گی۔
