28°C Sunny

بلوچستان کے لو بی ٹی یو گیس کے تجارتی استعمال کا فیصلہ – وفاق و صوبے میں بڑا معاہدہ، توانائی و صنعت کے نئے دور کی امید

بلوچستان کی لو بی ٹی یو (Low BTU) گیس کو تجارتی بنیادوں پر استعمال اور منافع بخش بنانے کے لیے وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کے درمیان اہم پیش رفت ہوئی ہے، جس کے تحت ایک جامع فریم ورک تیار کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی مشترکہ صدارت میں ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں سُئی اور دیگر علاقوں کی گیس کو صنعتی، زرعی اور توانائی پیداوار کے لیے قابل استعمال بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں طے پایا کہ ایک مشترکہ ورکنگ گروپ فوری طور پر تشکیل دیا جائے گا جو جولائی کے آخر تک اس منصوبے کے لیے ریگولیٹری اور ادارہ جاتی ڈھانچہ تیار کرے گا۔ منصوبے کے تحت کم بی ٹی یو گیس کو کم لاگت بجلی، کھاد سازی اور صنعتی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جائے گا تاکہ صوبے میں روزگار اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہو سکیں۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ کارپوریٹ سوشل ریسپانسیبیلٹی (CSR) فنڈز مقامی آبادی کی فلاح و بہبود اور ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت بلوچستان کے ہر فیصلے میں مکمل تعاون کرے گی جبکہ وزیراعلیٰ نے کہا کہ سُئی، ڈیرہ بگٹی اور دیگر علاقوں میں گیس وسائل کے مؤثر استعمال سے صوبہ معاشی خود کفالت کی طرف بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی وسائل کے ثمرات سب سے پہلے مقامی عوام تک پہنچنا ضروری ہیں۔