پاکستان میں حکومت نے دسمبر 2023 کے بعد پہلی بار اسپاٹ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (ایل این جی) کی خریداری کے لیے ٹینڈر جاری کر دیا ہے تاکہ توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کیا جا سکے اور بجلی کے شعبے میں ایندھن کی کمی پر قابو پایا جا سکے۔
Pakistan LNG Limited نے بین الاقوامی سپلائرز سے تین ایل این جی کارگو کے لیے بولیاں طلب کی ہیں، جن میں ہر کارگو تقریباً ایک لاکھ چالیس ہزار کیوبک میٹر گیس پر مشتمل ہوگا۔ یہ کارگو کراچی کے Port Qasim پر مختلف تاریخوں میں پہنچائے جائیں گے۔
توانائی کے وزیر اویس لغاری کے مطابق یہ اقدام بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے اور مہنگے ڈیزل اور فرنس آئل پر انحصار کم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے باعث ایل این جی کی سپلائی متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں ملک کو توانائی بحران کا سامنا ہے۔
رپورٹس کے مطابق پاکستان نے گزشتہ سال زیادہ تر ایل این جی قطر سے درآمد کی تھی، تاہم اب سپلائی چین میں خلل کے باعث دیگر ممالک سے متبادل ذرائع تلاش کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر ایل این جی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث ایشیائی ممالک میں توانائی کی طلب اور رسد کا توازن متاثر ہو رہا ہے، جبکہ پاکستان بھی اس صورتحال سے متاثر ہو رہا ہے۔