30°C Sunny

جی ڈی اے کا سندھ حکومت پر منشیات کے بڑھتے مسئلے پر شدید تنقید

گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) نے سندھ حکومت پر صوبے میں منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان اور اسمگلنگ پر قابو پانے میں ناکامی کا الزام عائد کرتے ہوئے سخت تنقید کی ہے۔ اتحاد نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت منشیات کے کاروبار کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اس میں مبینہ طور پر انتظامی سطح کے بعض عناصر بھی ملوث ہیں۔

یہ مؤقف رانی ہاؤس میں منعقدہ مشاورتی اجلاس کے دوران سامنے آیا، جس کی صدارت جی ڈی اے کے سربراہ پیر پگارا نے کی۔ اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا کہ سندھ میں منشیات کے استعمال اور اسمگلنگ میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے، جو معاشرتی اور نوجوان نسل کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

جی ڈی اے رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ منشیات فروشوں اور ان کے مبینہ سرپرستوں کے خلاف ملک گیر اور بلاامتیاز کارروائی کی جائے تاکہ اس بڑھتے ہوئے مسئلے پر قابو پایا جا سکے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومتی سطح پر مؤثر اقدامات نہ ہونے کے باعث صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے۔

اجلاس میں سندھ کے لوکل گورنمنٹ نظام پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ رہنماؤں نے کہا کہ صوبے میں حقیقی بلدیاتی نظام موجود نہیں ہے اور اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہ ہونے کی وجہ سے عوام بنیادی شہری سہولیات سے محروم ہیں۔

اجلاس میں پیر صدرالدین شاہ راشدی، غلام مرتضیٰ جتوئی، ڈاکٹر صفدر عباسی، ایاز لطیف پلیجو، سید زین شاہ، سائرہ بانو، سردار عبدالرحیم سمیت دیگر رہنما شریک ہوئے۔ جی ڈی اے نے مطالبہ کیا کہ ادارہ جاتی اصلاحات اور میرٹ کے نظام کو مضبوط بنایا جائے تاکہ عوامی مسائل کے حل میں بہتری آ سکے۔