30°C Sunny

پی آئی اے کی نجکاری مکمل ہونے کے قریب – رواں ماہ نئے مالکان کے حوالے کیے جانے کا امکان

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کو اس ماہ کے آخر تک باضابطہ طور پر نئے مالکان کے حوالے کیے جانے کا امکان ہے، جس کے ساتھ قومی فضائی ادارے کی نجکاری کا طویل عمل مکمل ہو جائے گا۔

وزیراعظم کے معاون برائے نجکاری محمد علی کے مطابق تمام ملکی اور بین الاقوامی ریگولیٹری منظوریوں کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور اب منتقلی کے آخری مراحل جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نئے مالکان کو ایئرلائن کی عملی اور مالیاتی ذمہ داریوں میں مکمل کردار حاصل ہوگا۔

حکام کے مطابق پی آئی اے کے مختلف ممالک میں آپریشنل حقوق کی منتقلی بھی مکمل کر لی گئی ہے، جبکہ ادارے کی پبلک لمیٹڈ کمپنی میں تبدیلی سے متعلق قانونی تقاضے بھی پورے ہو چکے ہیں۔ معاہدے کے تحت نجکاری کے بعد سرمایہ کاروں کو طیاروں کی خریداری اور لیزنگ سمیت کئی شعبوں میں ٹیکس چھوٹ بھی حاصل ہوگی۔

محمد علی نے کہا کہ حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منظوری سے یہ سہولت فراہم کی ہے تاکہ نجکاری کا عمل کامیابی سے مکمل کیا جا سکے۔ تاہم دیگر ایئرلائنز کو یہ سہولت فی الحال حاصل نہیں ہوگی۔

نجکاری کے بعد اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بھی مالی سال 2026-27 کے دوران نجی شعبے کے حوالے کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، جبکہ کراچی اور لاہور ایئرپورٹس کے آپریشنز آؤٹ سورسنگ کے ذریعے نجی شعبے کے سپرد کیے جائیں گے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں سمیت دیگر سرکاری اداروں کی بھی نجکاری کا عمل مرحلہ وار جاری رہے گا۔ حکومت کا مقصد سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا اور معیشت میں نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔

یاد رہے کہ دسمبر 2025 میں ایک کنسورشیم نے پی آئی اے کے 75 فیصد حصص حاصل کیے تھے، جبکہ اب مکمل کنٹرول اسی گروپ کو منتقل کیا جا رہا ہے۔