30°C Sunny

پاکستان کو ایل این جی ٹرمینل ادائیگیوں میں رعایت، نجی کمپنیوں سے معاہدہ

پاکستان نے ایل این جی ٹرمینل کی کیپیسٹی ادائیگیوں کے معاملے پر نجی آپریٹرز کے ساتھ مذاکرات کے بعد ریلیف حاصل کر لیا ہے، جس کے تحت طویل المدتی معاہدوں میں مقررہ ڈالر ادائیگیوں میں جزوی کمی پر اتفاق کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ معاہدہ انگرو ایل این جی ٹرمینل پاکستان لمیٹڈ اور پاکستان گیس پورٹ کنسورشیم لمیٹڈ کے ساتھ طے پایا، جو قطر کی جانب سے جنگی صورتحال کے باعث ایل این جی سپلائی میں تعطل کے بعد فورس میجور کی صورتحال میں ہوا۔

موجودہ 15 سالہ معاہدوں کے تحت پاکستان کو دونوں ٹرمینلز کو یومیہ تقریباً 5 لاکھ 38 ہزار ڈالر اور ماہانہ قریب 15 ملین ڈالر کی ادائیگیاں کرنی پڑتی ہیں، چاہے گیس کی شپمنٹ آئے یا نہ آئے۔

حکام کے مطابق پاکستان گیس پورٹ نے 34 دن اور انگرو ایل این جی ٹرمینل نے 39 دن کے لیے حکومت کو تجارتی رعایت فراہم کی ہے، تاہم اس رعایت کی مجموعی مالی مالیت ظاہر نہیں کی گئی اور اسے ایک وقتی نرمی قرار دیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدا میں حکومت نے قانونی طور پر فورس میجور کے تحت ادائیگیوں کی معطلی پر غور کیا، تاہم معاہدوں کے جائزے کے بعد یہ مؤقف سامنے آیا کہ سپلائی میں تعطل کے باوجود ادائیگیاں جاری رکھنا معاہداتی طور پر لازم ہے۔

پٹرولیم وزیر علی پرویز ملک نے اس صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ جب سپلائی موجود نہ ہو تو کیپیسٹی چارجز جاری رہنا قابلِ نظرثانی ہے۔

بعد ازاں حکومتی مذاکرات کے نتیجے میں نجی آپریٹرز نے قومی مفاد میں جزوی ریلیف دینے پر رضامندی ظاہر کی، جبکہ متعلقہ سرکاری اداروں نے ان نظرثانی شدہ معاہدوں کی منظوری دی۔