گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے صوبے کی سرکاری جامعات میں تعلیمی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے جامع اصلاحاتی اقدامات نافذ کرنے کی ہدایت جاری کی ہے اور واضح کیا ہے کہ مالی و انتظامی معاونت کا مقصد صرف نظام کو مضبوط کرنا نہیں بلکہ اس کے عملی نتائج میں بہتری لانا بھی ضروری ہے۔
انہوں نے یہ ہدایات بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز کے 14ویں سینیٹ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔ اجلاس میں جامعات کی مجموعی کارکردگی، انتظامی معاملات اور تعلیمی معیار پر تفصیلی غور کیا گیا۔ گورنر نے وائس چانسلرز کو ہدایت دی کہ سینیٹ کے تمام فیصلوں پر فوری عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور آئندہ اجلاسوں میں پیش رفت کی باقاعدہ رپورٹس پیش کی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ جامعات میں میرٹ پر مبنی گورننس، ادارہ جاتی احتساب اور نتائج پر مبنی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ ان کے مطابق اعلیٰ تعلیمی اداروں کو صرف ڈگری جاری کرنے والے ادارے نہیں بلکہ تحقیق، جدت اور مہارت کی ترقی کے مراکز کے طور پر کام کرنا چاہیے۔
گورنر نے اس بات پر زور دیا کہ بڑھتی ہوئی فنڈنگ اور حکومتی تعاون کا مقصد تب ہی پورا ہوگا جب اس کے واضح اور قابل پیمائش نتائج سامنے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جامعات کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے شفاف نظام اپنانا ہوگا اور ہر سطح پر جوابدہی کو یقینی بنانا ہوگا۔
اجلاس میں مختلف انتظامی اور تعلیمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ وائس چانسلرز کو ہدایت دی گئی کہ وہ اصلاحاتی عمل کو تیز کریں اور تعلیمی معیار میں بہتری کے لیے عملی اقدامات کریں۔
یہ اقدامات بلوچستان میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں بہتری، ادارہ جاتی شفافیت اور جدید تعلیمی تقاضوں سے ہم آہنگ نظام کے قیام کی طرف ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔