30°C Sunny

ضیا چشتی نے پاکستان کیلئے دس ارب ڈالر آئی ٹی وژن پیش کردیا

معروف کاروباری شخصیت ضیا چشتی نے پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں اگلے دس ارب ڈالر اضافے کے لیے ایک جامع حکمت عملی پیش کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ ملک کو آؤٹ سورسنگ ماڈل کے بجائے ٹیکنالوجی مصنوعات، معیاری تعلیم اور سرمایہ کاری دوست اصلاحات پر توجہ دینا ہوگی۔

کاروباری تجزیہ نگار حبیب اللہ خان کے مطابق ضیا چشتی نے گفتگو میں کہا کہ پاکستان بھارت کی طرح بڑے پیمانے پر آئی ٹی سروسز فراہم کرنے والا ملک نہیں بن سکتا کیونکہ مقامی انجینئرنگ گریجویٹس کی تعداد اور معیار محدود ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کو ایسٹونیا، فن لینڈ اور آئرلینڈ جیسے ممالک کی طرز پر “پروڈکٹ بیسڈ” معیشت اپنانا ہوگی جہاں کمپنیاں اپنی مصنوعات، برانڈ اور ٹیکنالوجی کی ملکیت رکھ کر عالمی سطح پر کامیاب ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایسی 50 سے 100 مضبوط ٹیک کمپنیوں کی ضرورت ہے جو عالمی معیار کی مصنوعات تیار کریں۔ ضیا چشتی کے مطابق پروڈکٹ کمپنیاں سروس کمپنیوں کے مقابلے میں فی انجینئر کئی گنا زیادہ آمدنی پیدا کرتی ہیں اور کامیاب کمپنیوں سے نئی سرمایہ کاری اور مزید کاروبار جنم لیتے ہیں۔

انہوں نے کمپیوٹر سائنس تعلیم کو “قومی ایمرجنسی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سالانہ تقریباً 25 ہزار کمپیوٹر سائنس گریجویٹس بنتے ہیں مگر عالمی معیار پر صرف چند ہزار پورا اترتے ہیں۔ ان کے مطابق اگلے دس برسوں میں دس لاکھ معیاری گریجویٹس تیار کرنا ضروری ہوگا، جس کے لیے اسکول سطح سے ریاضی، شماریات، پروگرامنگ اور مصنوعی ذہانت کی تعلیم متعارف کرانا ہوگی۔

ضیا چشتی نے چین، ویتنام اور سنگاپور کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ جدید معیشت میں تعلیمی اصلاحات کو قومی سلامتی کی طرح اہم سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے کم لاگت “مائیکرو اسکولز” اور اے آئی تعلیم کے فروغ کی بھی حمایت کی۔

انہوں نے سرمایہ اور افرادی قوت کی آزادانہ نقل و حرکت، تجارتی آسانیوں اور تیز رفتار کمرشل عدالتوں کے قیام پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری صرف وہاں آتی ہے جہاں اعتماد، قانونی تحفظ اور پالیسی کا تسلسل موجود ہو۔

ضیا چشتی نے کہا کہ اگر پاکستان ان تین بنیادی شعبوں پر توجہ دے تو آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ ممکن ہے اور ملک عالمی ٹیکنالوجی معیشت میں مضبوط مقام حاصل کر سکتا ہے۔