32°C Sunny

وفاقی آئینی عدالت نے بلوچستان کے سابق چیف سیکرٹریز کی مراعات ختم کر دیں

وفاقی آئینی عدالت نے بلوچستان حکومت کی جانب سے سابق چیف سیکرٹریز اور ان کی بیواؤں کو تاحیات اضافی مراعات دینے سے متعلق نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے بلوچستان ہائی کورٹ کے پہلے فیصلے کے خلاف دائر اپیل بھی مسترد کر دی۔

جسٹس عامر فاروق کی جانب سے جاری چار صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قانون کے منافی کوئی بھی اقدام غیر قانونی تصور ہوگا اور اس کی کوئی آئینی حیثیت نہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ ریٹائرڈ افسران یا ان کے اہل خانہ کو مراعات دینے کے لیے صرف قانون کے تحت ہی گنجائش موجود ہے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق پنشن اور ریٹائرمنٹ کے بعد دی جانے والی مراعات صرف مجاز قوانین کے تحت ہی دی جا سکتی ہیں جبکہ ان معاملات میں قواعد بنانے کا اختیار صرف محکمہ خزانہ کے پاس ہے۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ وزیر خزانہ یا چیف سیکرٹری کو ایسے اضافی فوائد کی منظوری دینے کا اختیار حاصل نہیں۔ اسی طرح وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے ان مراعات کی منظوری بھی غیر قانونی قرار دی گئی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ آئین صرف انہی انتظامی اقدامات کی اجازت دیتا ہے جو قانون کے دائرے میں ہوں اور کسی بھی غیر قانونی حکم کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہوتی۔

واضح رہے کہ بلوچستان حکومت نے سابق چیف سیکرٹریز اور ان کی بیواؤں کو تاحیات مراعات دینے کی منظوری دی تھی تاہم بلوچستان ہائی کورٹ نے پہلے ہی اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ بعد ازاں صوبائی حکومت نے اس فیصلے کے خلاف وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کیا تھا، جو اب مسترد کر دیا گیا ہے۔