پاکستان میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایران اور امریکہ کے درمیان متوقع مذاکرات کو جاری رکھنے اور پیش رفت یقینی بنانے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ اس حوالے سے وزیراعظم نے یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا سے ٹیلی فونک رابطہ کیا، جس میں خطے کی صورتحال اور امن کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔ یورپی رہنما نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین کشیدگی میں کمی کی تمام کوششوں کی حمایت کرے گی اور امید ظاہر کی کہ مذاکرات سے خطے میں استحکام آئے گا۔
اسلام آباد میں وزیراعظم کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس میں بھی خطے کی تیزی سے بدلتی صورتحال اور ایران کے مذاکرات میں ممکنہ عدم شرکت پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
حکام کے مطابق پاکستان نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ایران اور امریکہ کے درمیان بات چیت کو آگے بڑھانے کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا۔ اس حوالے سے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر عالمی شراکت داروں سے بھی رابطے کیے گئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اس وقت خطے میں ایک اہم ثالث کے طور پر ابھر رہا ہے، اور اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو اس کے اثرات نہ صرف خطے کے امن بلکہ عالمی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔