34°C Storm

پاکستان نے یو اے ای کے دو ارب ڈالر واپس کیے، نئے مالی ذرائع کی تلاش تیز

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ ملک نے متحدہ عرب امارات کے دو ارب ڈالر کے محفوظ ڈپازٹ بمعہ سود واپس کر دیے ہیں، جو بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کا حصہ تھا۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے اور بیرونی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے متبادل ذرائع تلاش کر رہی ہے۔

مرکزی بینک کے مطابق یہ ڈپازٹ پہلے بطور محفوظ سرمایہ رکھا گیا تھا اور اس کی واپسی حکومتی مالی حکمت عملی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ ادائیگی کے باوجود ذخائر کو سہارا دینے کے لیے دیگر اقدامات بھی جاری ہیں۔

ادھر سعودی عرب کی جانب سے تین ارب ڈالر کے ڈپازٹ کی مدت میں توسیع اور حالیہ دو ارب ڈالر کی وصولی نے پاکستان کو وقتی ریلیف فراہم کیا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق یو اے ای کو ادائیگی اور تقریباً چھ فیصد سود کی واپسی کے باعث بیرونی مالی خلا بڑھنے کا خدشہ موجود ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت ذخائر برقرار رکھنے کے لیے یورو بانڈز کے اجرا، اسلامی سکوک، کمرشل قرضوں اور دوست ممالک سے مالی تعاون سمیت مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ ذخائر تقریباً 2.8 ماہ کی درآمدات کے برابر ہیں جو معاشی استحکام کے لیے اہم سطح سمجھی جاتی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ عالمی مالیاتی فنڈ کے سات ارب ڈالر پروگرام میں فی الحال کوئی تبدیلی زیر غور نہیں، تاہم مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے ممکنہ اثرات کے پیش نظر آئندہ جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ توقع ہے کہ آئی ایم ایف جلد پاکستان کے لیے تقریباً 1.3 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری دے گا، جس سے بیرونی کھاتوں کو مزید سہارا ملے گا۔