30°C Sunny

آئی ایم ایف نے پاکستان کی بجلی سبسڈی کم کردی

: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے لیے مالی سال 2026-27 میں بجلی کی سبسڈی کی مجموعی حد میں کمی کرتے ہوئے اسے مجموعی قومی پیداوار کے 0.7 فیصد سے کم کر کے 0.6 فیصد کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت بجلی کی سبسڈی کا مجموعی حجم 830 ارب روپے تک محدود کر دیا گیا ہے، جبکہ سرکولر ڈیٹ کے بہاؤ کا ہدف بھی کم کر کے 300 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 100 ارب روپے کم ہے۔

آئی ایم ایف کی جانب سے جاری تازہ جائزہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور آپریشنل بہتری کے باعث سبسڈی کے دباؤ میں کمی آئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بجلی کے نرخوں میں سال کے دوران بروقت ایڈجسٹمنٹ سے لاگت کی وصولی میں بہتری آئی ہے، تاہم عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے پیش نظر یہ ایڈجسٹمنٹ جاری رکھنا ضروری ہے تاکہ دوبارہ سرکولر ڈیٹ میں اضافہ نہ ہو۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ صنعتی صارفین کے لیے فروری میں بجلی کے نرخ کم کیے گئے تھے، تاہم اس کمی کو گھریلو صارفین پر نئے یا بڑھے ہوئے فکسڈ چارجز کے ذریعے متوازن کیا گیا، جس میں محفوظ صارفین بھی شامل تھے۔ آئی ایم ایف نے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ سبسڈی کے نظام کو زیادہ ہدفی اور کمزور طبقوں تک محدود رکھا جائے جبکہ بجلی کے نرخوں میں شفافیت اور پائیداری برقرار رکھی جائے۔

فنڈ نے مزید کہا کہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی نجکاری کا عمل جاری رہے گا اور اس کے لیے دسمبر 2026 کو ایک اہم اسٹرکچرل بینچ مارک مقرر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹرانسمیشن نیٹ ورک کی تنظیم نو مکمل ہو چکی ہے جبکہ بجلی کی ہول سیل نیلامیوں کا آغاز وسط 2026 تک متوقع ہے۔

آئی ایم ایف نے نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ کی طرف منتقلی کو بھی سراہا ہے اور کہا ہے کہ یہ اقدام شمسی اور گرڈ توانائی کے درمیان توازن بہتر بنائے گا، تاہم موجودہ صارفین کو کچھ استثنیٰ حاصل رہے گا جس سے قلیل مدت میں کراس سبسڈی کا دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بڑھتی ہوئی سولر اپنانے کی شرح بجلی کی مجموعی کھپت اور شعبے کی مالی صورتحال پر اثر انداز ہو رہی ہے۔