قطر نے غزہ کی پٹی میں طے شدہ جنگ بندی منصوبے پر مکمل عملدرآمد کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی مخالفت کے باوجود تمام فریقوں کو متفقہ معاہدے کی مکمل پاسداری کرنا ہوگی۔
قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ دوحہ غزہ جنگ بندی منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قطر کا بنیادی مطالبہ یہی ہے کہ معاہدے میں شامل دونوں فریق طے شدہ نکات پر مکمل طور پر عمل کریں۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے 15 نکاتی جنگ بندی منصوبے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حماس کے مکمل طور پر غیر مسلح ہونے کو پیشگی شرط قرار دیا ہے، جبکہ مجوزہ منصوبے میں حماس کی تخفیف اسلحہ اور اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا کو متوازی طور پر آگے بڑھانے کی بات کی گئی ہے۔
قطری ترجمان نے علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قطر امریکا اور ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور کشیدگی کم کرنے کی کوششیں بھی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوحہ چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بحالی اور غزہ میں جنگ بندی سے متعلق پیش رفت بیک وقت حاصل کی جائے تاکہ خطے میں وسیع تر امن و استحکام کی راہ ہموار ہو سکے۔