حکومت نے توانائی کے شعبے میں درپیش رکاوٹیں دور کرنے اور ملک کی ریفائنری صنعت کو جدید بنانے کے لیے 6 ارب ڈالر کے طویل التوا کے ریفائنری اپ گریڈ منصوبے پر اہم اجلاس آج طلب کر لیا ہے۔
یہ اعلیٰ سطح اجلاس وزارت خزانہ میں منعقد ہوگا جس میں وفاقی وزیر خزانہ، وزیر پٹرولیم، ایف بی آر چیئرمین، پیٹرولیم ڈویژن اور فنانس ڈویژن کے اعلیٰ حکام سمیت ملک کی تمام ریفائنری کمپنیوں کے سی ای اوز اور ایم ڈیز شرکت کریں گے۔
اجلاس میں بنیادی طور پر ان پالیسی رکاوٹوں کو حل کرنے پر غور کیا جائے گا جو گزشتہ ایک سال سے اس بڑے سرمایہ کاری منصوبے میں تاخیر کا سبب بن رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن (IFEM) کو 1.87 روپے فی لیٹر تک بڑھا کر 6 سے 7 سال کے لیے مستقل کرنے کی تجویز زیر غور آئے گی تاکہ ریفائنریوں کی آمدن مستحکم ہو اور مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔
ریفائنری سیکٹر کو درپیش مشکلات کی بڑی وجہ مالی سال 2024-25 کے بجٹ میں دی گئی سیلز ٹیکس چھوٹ ہے، جس کے باعث ریفائنریاں ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ سے محروم ہو گئی ہیں اور سرمایہ کاری کا عمل متاثر ہوا ہے۔
اس کے علاوہ درآمدی مشینری، پلانٹس اور اسپیئر پارٹس پر ٹیکس چھوٹ کی بحالی اور گرین فیلڈ پالیسی سے ہم آہنگ مراعات دینے پر بھی غور کیا جائے گا۔
پٹرولیم ڈویژن آئی ایم ایف سے بھی IFEM کو ایک مستقل اور طویل المدتی پالیسی کے طور پر منظور کرانے کی درخواست کرے گا تاکہ سرمایہ کاروں کے لیے پالیسی میں استحکام یقینی بنایا جا سکے۔