حکومت پاکستان نے بیرون ملک مقیم پاکستانی کارکنوں کے لیے نیشنل ایمیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 متعارف کرا دی ہے، جس کا مقصد ہنرمند افرادی قوت کی تیاری، کارکنوں کے حقوق کا تحفظ، ترسیلات زر کے نظام کو بہتر بنانا اور وطن واپس آنے والے افراد کی بحالی کے اقدامات کو مؤثر بنانا ہے۔ نئی پالیسی کا دائرہ کار 11 ملین سے زائد اوورسیز پاکستانیوں سے متعلق اصلاحات پر مبنی ہے۔
وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز و ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ چوہدری سالک حسین نے اسلام آباد میں منعقدہ تقریب کے دوران پالیسی کا اجرا کیا، جس میں غیر ملکی سفارت کاروں، عالمی اداروں کے نمائندگان، وفاقی و صوبائی حکام اور ترقیاتی شراکت داروں نے شرکت کی۔
وزیر نے کہا کہ بیرون ملک پاکستانی کارکن ملک کی معاشی استحکام میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ مالی سال 2025-26 میں ترسیلات زر 41.58 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئیں، جو ملکی تاریخ میں زرمبادلہ کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکی ہیں۔
نئی پالیسی کے تحت حکومت لیبر مارکیٹ ریسرچ سیل قائم کرے گی، بیرون ملک روزگار فراہم کرنے والے اداروں کے قوانین میں بہتری لائے گی اور کمیونٹی ویلفیئر اتاشیوں کے کردار کو مزید وسعت دے گی۔ اس کے علاوہ یورپی یونین ٹیلنٹ پارٹنرشپس، پاک ٹاک ایپ، پاک ایمیگرنٹ مینجمنٹ فریم ورک اور ای انفارمڈ مائیگریشن فریم ورک جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز متعارف کرائے جائیں گے۔
پالیسی کے تحت سندھ، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں امیگریشن سروسز کو مزید وسعت دی جائے گی جبکہ ٹیکنیکل اور ووکیشنل تعلیم کے نصاب کو عالمی معیار کے مطابق بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ خواتین، خصوصی افراد اور کم نمائندگی رکھنے والے طبقات کی بیرون ملک روزگار میں شمولیت بڑھانے پر بھی توجہ دی جائے گی۔
کارکنوں کے تحفظ کیلئے بین الاقوامی شکایتی مرکز، خصوصی عدالتوں کے قیام اور بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے قانونی معاونت کے انتظامات شامل کیے گئے ہیں۔ حکومت اوورسیز ورکرز کے بچوں کیلئے تعلیمی واؤچرز اور پنشن اسکیم سمیت دیگر سہولیات بھی متعارف کرائے گی۔
پالیسی میں رسمی ذرائع سے ترسیلات زر کے فروغ کیلئے سوہنی دھرتی ریمیٹنس پروگرام، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ اور نیا پاکستان سرٹیفکیٹس کو مزید فعال بنانے کا منصوبہ شامل ہے تاکہ حوالہ اور ہنڈی کے غیر رسمی نظام کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔ حکومت کے مطابق پالیسی تین مراحل میں نافذ کی جائے گی، جبکہ ایک اعلیٰ سطحی ٹاسک فورس اس کے عملدرآمد کی نگرانی کرے گی۔