30°C Sunny

وفاقی آئینی عدالت: مسلمان مرد اہلِ کتاب خواتین سے نکاح کر سکتے ہیں، کم عمری کی شادی پر صرف قانونی سزا

اسلام آباد (GWADAR SPEAKS – ویب ڈیسک): وفاقی آئینی عدالت نے فیصلہ جاری کیا ہے کہ مسلمان مرد شرعی طور پر اہلِ کتاب خواتین کے ساتھ نکاح کر سکتے ہیں، جبکہ کم عمری کی شادی کے معاملات میں قانون صرف فوجداری سزا کی ضمانت دیتا ہے اور نکاح کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔

فیصلے کی اہم نکات

عدالت نے واضح کیا کہ کم عمر شادی پر قانون میں صرف سزا کی شق موجود ہے، نکاح شرعی طور پر برقرار رہتا ہے۔

لڑکی نے نکاح سے پہلے اسلام قبول کیا، اور اس کا باقاعدہ ڈیکلریشن عدالت میں موجود ہے۔

حبسِ بے جا کی درخواست میں لڑکی کی عمر اور دارالافتاء کی دستاویزات کی درستگی کا جائزہ نہیں لیا جا سکتا۔

آئینی تشریح کے لیے حتمی فورم وفاقی آئینی عدالت ہے، اور سپریم کورٹ سمیت تمام عدالتیں اس کے فیصلے کی پابند ہیں۔

معاملے کی تفصیلات

لاہور کی رہائشی ماریہ بی بی نے اسلام قبول کر کے شہریار نامی نوجوان سے نکاح کیا تھا۔ لڑکی کے والد نے ایف آئی آر میں بیٹی کی عمر 13 سے 14 سال اور دلائل میں 12 سال 9 ماہ بتائی، جس میں تضاد موجود ہے۔ عدالت نے کہا کہ دستاویزات پر مکمل انحصار ممکن نہیں، اور لڑکی نے اپنی مرضی سے نکاح کیا، کسی دباؤ یا زبردستی کے بغیر۔

عدالتی استدلال

وفاقی آئینی عدالت نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے آئین یا قانون سے متصادم ہوں تو آئینی عدالت ان پر عمل کی پابند نہیں۔ اس فیصلے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اہلِ کتاب خواتین کے ساتھ نکاح شرعی طور پر جائز ہے، اور کم عمری کی شادی پر قانونی کارروائی صرف سزا کے دائرہ کار تک محدود ہے۔