34°C Cloudy

پاکستان میں آئندہ مذاکرات، ایران جوہری تنازع حل ہونے کا امکان

انقرہ، ترکی میں ترک وزیر خارجہ حقان فیدان نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تعطل پاکستان میں ہونے والے آئندہ مذاکراتی دور میں ختم ہو سکتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جوہری معاملے میں ایک یا دو اہم رکاوٹیں، جو کافی عرصے سے حل طلب ہیں، جلد دور ہو سکتی ہیں۔

برطانیہ کے دورے کے دوران آکسفورڈ یونیورسٹی میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترکی تمام متعلقہ فریقین سے مسلسل رابطے میں ہے اور حالیہ جنگ بندی میں توسیع کو مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق ابتدائی جنگ بندی حتمی معاہدے کے لیے کافی نہیں تھی، تاہم اس میں توسیع سے مذاکرات کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔

حقان فیدان نے مزید کہا کہ جوہری معاملے میں پیش رفت سے پورے خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے، خصوصاً آبنائے ہرمز سے متعلق سیکیورٹی خدشات میں کمی آئے گی، جو عالمی تجارت کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے۔

دوسری جانب جرمنی اور ترکی نے عندیہ دیا ہے کہ ممکنہ امن معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی کے لیے مشترکہ کوششوں میں حصہ لیا جا سکتا ہے۔ جرمن وزیر دفاع بورس پسٹوریئس کے مطابق کسی بھی ممکنہ تعیناتی کا انحصار پائیدار جنگ بندی، بین الاقوامی قانون کے تحت واضح جواز اور پارلیمانی منظوری پر ہوگا۔

ترک وزیر خارجہ نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی صورت میں ترکی اس طرح کے آپریشنز میں شامل ہو سکتا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان آئندہ مذاکراتی مرحلے کی میزبانی کرنے جا رہا ہے اور خطے میں سفارتی سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں۔