29°C Sunny

عراقچی دوبارہ پاکستان آئیں گے، امن مذاکرات میں پیش رفت متوقع

اسلام آباد، پاکستان میں ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی عمان کے دورے کے بعد آج دوبارہ پاکستان پہنچیں گے، جہاں وہ امریکہ ایران تنازع کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو آگے بڑھائیں گے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق وہ عمان سے واپسی کے بعد روس جانے سے پہلے ایک بار پھر پاکستان کا دورہ کریں گے۔

رپورٹس کے مطابق ان کے وفد کا ایک حصہ تہران واپس چلا گیا تھا تاکہ جنگ کے خاتمے سے متعلق امور پر مشاورت اور ہدایات حاصل کی جا سکیں، جو دوبارہ اسلام آباد میں وفد سے آ ملے گا۔ عراقچی نے کہا کہ ایران نے پاکستان کے ساتھ ایک قابل عمل فریم ورک شیئر کیا ہے جس کا مقصد امریکہ کے ساتھ جاری جنگ کا مستقل خاتمہ ہے، تاہم انہوں نے اس کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے حالیہ دورہ پاکستان کو مفید قرار دیتے ہوئے خطے میں استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا اور کہا کہ پاکستان کی برادرانہ کوششیں امن کے قیام میں اہم ہیں۔ انہوں نے امریکہ کے مؤقف پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ واشنگٹن سفارتکاری میں سنجیدہ ہے یا نہیں۔

پاکستان اس وقت تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے جبکہ حالیہ کشیدگی کے بعد امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ عراقچی نے گزشتہ روز وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات بھی کی، جبکہ دو ہفتے قبل اسلام آباد میں ہونے والے پہلے مذاکراتی دور میں کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا تھا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور مشیر جیرڈ کشنر کا پاکستان کا مجوزہ دورہ منسوخ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو مذاکرات کے لیے طویل سفر کی ضرورت نہیں۔ ذرائع کے مطابق ایران نے براہ راست مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے اپنی شرائط پاکستان کے ذریعے پہنچانے پر زور دیا ہے، جن میں آبنائے ہرمز، ایرانی بندرگاہوں پر امریکی پابندیاں اور افزودہ یورینیم جیسے اہم نکات شامل ہیں۔