کوئٹہ، 2 اپریل 2026: بلوچستان کے مختلف علاقوں میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران وقفے وقفے سے ہونے والی شدید بارشوں، تیز ہواؤں، گرج چمک اور ژالہ باری نے تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں 30 سے زائد اضلاع شدید سیلابی صورتحال سے دوچار ہو گئے ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق کوئٹہ، خضدار، قلات، سوراب، لسبیلہ، حب، کیچ، Gwadar، قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، ژوب، ہرنائی، لورالائی، کوہلو، آواران، خاران، مستونگ، شیرانی، زیارت سمیت متعدد اضلاع میں موسلا دھار بارشیں ریکارڈ کی گئیں، جس سے نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے۔
بارشوں کے باعث فلیش فلڈز نے متعدد علاقوں میں انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا جبکہ مواصلاتی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔ مختلف اضلاع میں ٹیلی فون، موبائل اور انٹرنیٹ سروسز معطل ہو گئیں، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ڈھاڈر میں آسمانی بجلی گرنے سے 12 سالہ بچی جاں بحق ہو گئی جبکہ کئی مقامات پر ٹرانسفارمرز اور بجلی کا نظام بھی متاثر ہوا۔
کچھی ضلع میں ندی نالوں اور ناری دریا میں طغیانی کے باعث درجنوں گھر اور زرعی زمینیں متاثر ہوئیں۔ مقامی آبادی کو اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونا پڑا۔
دوسری جانب ریسکیو اداروں نے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے قلعہ عبداللہ میں ایک ٹرک اور ایک منی کوچ میں پھنسے افراد کو بحفاظت نکال لیا، تاہم متعدد شاہراہیں اور پل بند ہو گئے ہیں۔
Quetta-چمن ہائی وے سمیت اہم شاہراہوں پر ٹریفک معطل ہے جبکہ کئی علاقوں میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ انتظامیہ نے ندی نالوں اور نشیبی علاقوں میں سفر پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔
محکمہ موسمیات اور پی ڈی ایم اے نے آئندہ 3 اپریل تک مزید شدید بارشوں، ژالہ باری اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری کیا ہے اور شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
مقامی انتظامیہ نے تمام متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے، ریسکیو سامان تیار رکھنے اور ممکنہ انخلا کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت جاری کر دی ہے