31°C Storm

آبنائے ہرمز پر ایرانی تجویز، تیل کی قیمتوں میں اضافہ

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی جانب سے پیش کی گئی نئی تجویز کا جائزہ لے رہے ہیں، جس کا تعلق آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جاری جنگ کے خاتمے سے ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکہ کو اپنے مؤقف اور شرائط سے آگاہ کیا ہے، جن میں جوہری پروگرام اور اہم سمندری راستے کی حیثیت شامل ہے۔

ذرائع کے مطابق مجوزہ عبوری معاہدے کے تحت ایران آبنائے ہرمز کو کھولنے پر آمادہ ہو سکتا ہے، جبکہ اس کے بدلے امریکہ ایرانی بندرگاہوں پر عائد پابندیاں ختم کرے گا۔ تاہم اس معاہدے میں جوہری پروگرام سے متعلق اہم معاملات کو بعد میں مذاکرات کے لیے چھوڑنے کی تجویز دی گئی ہے، جو اب بھی دونوں ممالک کے درمیان ایک بڑا تنازع ہے۔

امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم نے اس تجویز پر غور کیا، تاہم اس بات کا کوئی حتمی اشارہ نہیں دیا گیا کہ امریکہ اسے قبول کرے گا یا نہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کے مؤقف کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کی مکمل اور غیر مشروط بحالی ضروری ہے۔

ادھر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات میں مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یہ خدشہ ہے کہ اگر ایران جلد معاہدے تک نہ پہنچا تو اس کی تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش ختم ہو سکتی ہے جس سے طویل مدتی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 109 ڈالر فی بیرل جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 97 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ہے۔

دوسری جانب عالمی اسٹاک مارکیٹس میں ملا جلا رجحان دیکھا گیا جبکہ سرمایہ کار مرکزی بینکوں کے آئندہ فیصلوں اور بڑی کمپنیوں کی مالی رپورٹس پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق توانائی کی بڑھتی قیمتیں عالمی مہنگائی میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں جس سے معاشی پالیسیوں پر اثر پڑنے کا امکان ہے۔