30°C Cloudy

بلوچستان اسمبلی نے پانچ بل منظور، جعلی ادویات، گیس لوڈشیڈنگ اور شراب کی دکانوں پر رپورٹس طلب

کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی نے اہم قانون سازی کرتے ہوئے پانچ بل منظور کر لیے جبکہ جعلی ادویات، گیس لوڈشیڈنگ، کم تنخواہوں اور شراب کی دکانوں سمیت متعدد عوامی مسائل پر رپورٹس طلب کر لی گئیں۔

تفصیلات کے مطابق اجلاس میں بلوچستان یونیورسٹیز (ترمیمی) بل سمیت اینٹی بیگری بل، ٹیکنیکل ایجوکیشن و ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی بل، اوورسیز پاکستانیز کمیشن بل اور سروس ٹریبونل (ترمیمی) بل منظور کیے گئے۔ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کے مطابق یونیورسٹیز ترمیمی بل کے تحت وائس چانسلرز کی مدت تین سال سے بڑھا کر چار سال کی جا رہی ہے۔

ایوان میں این سی ایچ ڈی اور بی ای سی ایس اساتذہ کی کم تنخواہوں، نصابی کتب کی عدم فراہمی، جعلی ادویات کی فروخت، کوئٹہ میں گیس لوڈشیڈنگ اور خضدار و گوادر میں شراب کی دکانوں کے قیام پر توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیے گئے۔

اسپیکر نے محکمہ صحت کو جعلی ادویات، ایس ایس جی سی کو گیس لوڈشیڈنگ، محکمہ تعلیم کو نصابی کتب اور اساتذہ کی تنخواہوں جبکہ ایکسائز حکام کو شراب کی دکانوں سے متعلق تفصیلی رپورٹس پیش کرنے کی ہدایت کی۔

اجلاس کے دوران ماہی گیروں کو جنوبی کوریا بھیجنے میں تاخیر، سرحدی مسائل اور ایل پی جی باؤزرز کی موجودگی جیسے معاملات بھی زیر بحث آئے، جبکہ متعلقہ وزراء کی عدم موجودگی پر کچھ سوالات مؤخر کر دیے گئے۔

بعد ازاں کورم کی نشاندہی پر مطلوبہ تعداد پوری نہ ہونے کے باعث اجلاس 16 اپریل سہ پہر تین بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔