31°C Sunny

پاکستان میں نیشنل فرانزک ایجنسی کا باقاعدہ آغاز، جرائم کی جدید تفتیش میں اہم سنگ میل

اسلام آباد، پاکستان میں وزارت داخلہ نے ملک کی پہلی نیشنل فرانزک ایجنسی کے باقاعدہ طور پر کام شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ ادارہ نیشنل فرانزک ایجنسی بل 2024 کے تحت قائم کیا گیا تھا اور اب ملک بھر میں جرائم کی تفتیش اور قومی سلامتی کے امور میں معاونت فراہم کرے گا۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے ادارے کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ یہ ادارہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تفتیشی صلاحیتوں کو مضبوط بنائے گا اور جرائم پر قابو پانے میں مدد دے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ نیشنل فرانزک ایجنسی کے دفاتر خیبرپختونخوا، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی قائم کیے جائیں تاکہ خدمات ملک بھر میں دستیاب ہوں۔

ادارے کے ڈائریکٹر جنرل حسنیات رسول نے وزیر داخلہ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پہلے مرحلے کے اہداف مکمل کر لیے گئے ہیں اور ادارہ پہلے ہی ڈیجیٹل فرانزک کی خدمات فراہم کر رہا ہے جن میں ڈیپ فیک تجزیہ، کمپیوٹر اور موبائل فرانزک، آڈیو اور ویڈیو تجزیہ، نیٹ ورک اور ڈرون فرانزک شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ایک سال میں 1500 سے زائد ڈیجیٹل فرانزک کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ دوسرے مرحلے میں ملک بھر میں 25 خصوصی لیبارٹریز قائم کی جائیں گی۔ دورے کے دوران وزیر داخلہ نے ریسرچ اینڈ انوویشن لیب، ڈیجیٹل فرانزک لیب، نارکوٹکس لیب، فِن ٹیک لیب اور مشکوک دستاویزات لیب کا بھی معائنہ کیا۔