29°C Sunny

حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات – نویں روز بھی ہڑتال جاری، بندرگاہوں پر کارگو نظام شدید متاثر

پاکستان بھر کے گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال نویں روز میں داخل ہوگئی جبکہ حکومت اور آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے درمیان مطالبات کے حل کے لیے اعلیٰ سطح مذاکرات جاری ہیں

ٹرانسپورٹرز نے ڈیزل کی قیمتوں میں روزانہ ردوبدل، ٹول ٹیکس میں کمی اور ایکسل لوڈ قوانین کے مؤثر اور قابل عمل نفاذ کے مطالبات کے لیے گزشتہ ہفتے ہڑتال شروع کی تھی جس سے درآمدی، برآمدی اور ضروری اشیا کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے

ایسوسی ایشن کے صدر محمد اویس چوہدری کے مطابق سندھ گورنر ہاؤس میں وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان اور سندھ و پنجاب کے وزرائے ٹرانسپورٹ پر مشتمل حکومتی وفد نے ٹرانسپورٹرز کے نمائندوں سے مذاکرات کیے

انہوں نے کہا کہ تقریباً 400 گاڑیاں ہڑتال میں شامل ہیں جبکہ بندرگاہوں پر کارگو کی نقل و حرکت شدید متاثر ہونے سے کنٹینرز اور مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت تقریباً معطل ہے

ٹرانسپورٹرز نے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ تبدیلی کے بجائے ماہانہ یا کم از کم پندرہ روزہ نظام نافذ کیا جائے تاکہ مال برداری کے اخراجات کا مؤثر انتظام ممکن بنایا جاسکے

ایسوسی ایشن نے ٹول ٹیکس میں کمی اور ایکسل لوڈ قوانین کے سخت مگر قابل عمل نفاذ کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ وہ صرف زبانی یقین دہانیوں پر ہڑتال ختم نہیں کریں گے اور مطالبات کی منظوری کے لیے تحریری اور باقاعدہ حکومتی حکم نامہ ضروری ہوگا

اس سے قبل حکومت نے ٹرانسپورٹرز کے مسائل کے حل کے لیے کسٹمز حکام اور گڈز ٹرانسپورٹرز پر مشتمل مشترکہ مانیٹرنگ کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ عبدالعلیم خان نے موٹرویز پر جدید وی اسٹیشنز قائم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا

طویل ہڑتال نے بالخصوص کراچی کی بندرگاہوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے جہاں درآمدی اور برآمدی کنسائنمنٹس پھنسنے سے ڈیمرج اور ڈیٹینشن چارجز میں اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے