کوئٹہ: بلوچستان کے گورنر شیخ جعفر خان مندوخیل نے صوبے میں ہر بچے کو تعلیم کے دائرے میں لانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیم فرد کی ترقی، مواقع تک رسائی اور بنیادی سماجی سہولیات کے حصول کی بنیاد ہے۔ وہ یونیسف کے زیر اہتمام منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے جس میں تعلیمی شعبے میں جاری اقدامات اور آئندہ حکمت عملی پر روشنی ڈالی گئی۔
گورنر نے کہا کہ تعلیمی ترقی کے لیے حکومتی اداروں اور نجی شعبے کے درمیان مضبوط رابطہ اور مؤثر تعاون ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق مختلف ادارے نہ صرف تعلیمی سرگرمیوں بلکہ جدید اور عملی مہارتوں کی فراہمی میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں تاکہ طلبہ کو مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار کیا جا سکے۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ بلوچستان میں اب بھی بڑی تعداد میں بچے اسکولوں سے باہر ہیں جس کی بنیادی وجوہات غربت، محدود سہولیات اور بعض علاقوں میں پسماندگی ہیں۔ تاہم انہوں نے یونیسف کی مسلسل کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس ادارے کی معاونت سے رواں سال اسکولوں میں داخلوں کی شرح میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔
گورنر مندوخیل نے یونیورسٹی آف کیمبرج اینڈ اسکول کلر کہار اور مدینہ ویلفیئر فاؤنڈیشن کی تعلیمی خدمات کو بھی سراہا اور کہا کہ یہ ادارے بلوچستان کے طلبہ کے لیے تعلیمی مواقع بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ بڑے خواب دیکھیں اور اپنے مستقبل کے لیے محنت کریں، حکومت اور متعلقہ ادارے ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
تقریب میں صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید درانی، پارلیمانی سیکرٹری حاجی برکت رند، یونیسف کے چیف فیلڈ آفیسر ڈاکٹر ہمایوں عامری، اور دیگر اراکین اسمبلی و ماہرین نے شرکت کی۔ اختتام پر یونیسف اور تعلیمی اداروں کی جانب سے گورنر کو یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔