پاکستان نے گلگت بلتستان میں ہونے والے آئندہ عام انتخابات پر بھارت کے اعتراضات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔ دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ نئی دہلی کی جانب سے دیے گئے بیانات زمینی حقائق کو مسخ کرنے اور گمراہ کن پروپیگنڈا پھیلانے کی کوشش ہیں، جنہیں پاکستان یکسر مسترد کرتا ہے۔
گلگت بلتستان میں عام انتخابات 7 جون کو منعقد ہونے جا رہے ہیں، جو شدید سرد موسم کے باعث تقریباً چار ماہ کی تاخیر کے بعد ہو رہے ہیں۔ انتخابات کے سلسلے میں مختلف سیاسی جماعتوں، خصوصاً پاکستان پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتوں نے خطے میں انتخابی مہم تیز کر دی ہے اور عوامی جلسے منعقد کیے جا رہے ہیں تاکہ ووٹرز کی حمایت حاصل کی جا سکے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت جموں و کشمیر کے بین الاقوامی طور پر متنازع خطے پر غیر قانونی قبضہ برقرار رکھے ہوئے ہے اور مسلسل جھوٹے بیانیے کو فروغ دے رہا ہے۔ ترجمان کے مطابق مسئلہ جموں و کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ایک دیرینہ تنازع ہے، جس کا منصفانہ اور پائیدار حل متعلقہ قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو حق خودارادیت دینے میں مضمر ہے۔
پاکستان نے اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ 5 اگست 2019 کے بعد مقبوضہ کشمیر میں کیے گئے یکطرفہ اقدامات واپس لے اور بین الاقوامی مبصرین، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی میڈیا کو زمینی صورتحال کا جائزہ لینے کی اجازت دے۔ دفتر خارجہ کے مطابق گلگت بلتستان سے متعلق بھارتی بیانات خطے کی حقیقت تبدیل نہیں کر سکتے، جبکہ پاکستان کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔