30°C Sunny

خلیجی کشیدگی کے دوران گوادر پھر عالمی توجہ کا مرکز، کیا پاکستان اس بار موقع سے فائدہ اٹھا پائے گا؟

خلیجی خطے میں حالیہ جغرافیائی و سیاسی کشیدگی اور امریکہ کی قیادت میں ہونے والی پیش رفت نے ایک بار پھر گوادر کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے، جس کے بعد یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ آیا پاکستان اس موقع کو مستقل معاشی اور اسٹریٹجک فائدے میں بدل سکے گا یا ماضی کی طرح ایک اور سنہری موقع ضائع ہو جائے گا۔ 1958 میں عمان سے حاصل کیا جانے والا گوادر آج پاکستان کے لیے نہ صرف ایک اہم بحری دفاعی اثاثہ سمجھا جاتا ہے بلکہ مستقبل کے معاشی گیٹ وے کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے، جو مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا اور چین کو آپس میں جوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق بندرگاہ، ایئرپورٹ توسیع اور سیکیورٹی انفراسٹرکچر پر کام جاری ہے، تاہم شہری گوادر اب بھی زمین کے تنازعات، کمزور انتظامی ڈھانچے، بنیادی سہولیات کی کمی اور سرمایہ کاروں کے عدم اعتماد جیسے مسائل کا شکار ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شفاف پالیسی، زمینوں کا ڈیجیٹل ریکارڈ اور مؤثر حکومتی نگرانی گوادر کی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔

Just In
12-09-2026
بگٹی کا بیان: بلوچستان بجٹ عوامی ضروریات کے مطابق ہوگا بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کے تحت مختلف اضلاع میں ترقیاتی منصوبے جاری پاکستان کو نئے تجارتی نظام کے لیے دوبارہ درخواست دینا ہوگی، یورپی یونین نے معاہدوں پر مؤثر عملدرآمد پر زور دے دیا بلوچستان میں وزیراعلیٰ کا لائیو ایکس سیشن، اصلاحات اور نوجوانوں کے منصوبوں پر بریفنگ آئی ایم ایف کا پاکستان کیلئے 1.2 ارب ڈالر کی قسط پر معاہدہ، خطے کی جنگ سے معیشت کو خطرات گوادر بندرگاہ پر بین الاقوامی کارگو آپریشنز میں پیش رفت – اسٹیل بلیٹس کی ترسیل سے عالمی شپنگ کمپنیوں کا اعتماد بڑھنے لگا گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے نیا کھیل کا میدان مکمل کرلیا، فٹبال اور والی بال کھلاڑیوں کے لیے سہولیات فراہم یورپی انویسٹمنٹ بینک کا ریکوڈک منصوبے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار وزیراعلیٰ بلوچستان کا پنجگور کا دورہ، ترقیاتی منصوبوں کا اعلان بلوچستان حکومت کا جمہوری اقدار اور پارلیمانی نظام کے فروغ کے عزم کا اعادہ