31°C Sunny

ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکہ کو خدشات پہنچائے، حملے مؤخر

ایران نے کہا ہے کہ اس نے امریکہ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے دی گئی نئی تجویز پر اپنا مؤقف پیش کر دیا ہے اور اپنے خدشات پاکستان کے ذریعے امریکی حکام تک پہنچائے ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے “پاکستانی ثالث” کے ذریعے جاری ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر آج متوقع فوجی حملہ مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان 28 فروری سے جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے مختلف تجاویز کا تبادلہ جاری ہے، تاہم اب تک صرف ایک باضابطہ مذاکراتی دور ہوا ہے۔ ایران نے اپنے مؤقف میں بیرون ملک منجمد اثاثوں کی واپسی، امریکی پابندیوں کے خاتمے اور جنگی نقصانات کے ازالے کا مطالبہ دہرایا ہے۔ ایرانی حکام نے امریکی مطالبات کو “غیر متوازن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن بغیر کسی عملی رعایت کے وہ شرائط منوانا چاہتا ہے جو جنگ کے دوران حاصل نہ کر سکا۔

دوسری جانب پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور صدر مسعود پزشکیان سے ملاقاتیں کیں، جن میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال، علاقائی سلامتی اور دوطرفہ تعاون پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ان ملاقاتوں میں پاکستان کے ممکنہ سفارتی کردار پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی قیادت کی درخواست پر ایران پر منگل کو ہونے والا حملہ مؤخر کیا جا رہا ہے تاکہ جاری مذاکرات کو موقع دیا جا سکے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر قابل قبول معاہدہ نہ ہوا تو امریکہ کسی بھی وقت بڑے پیمانے پر کارروائی کے لیے تیار ہے۔

ادھر ایران نے آبنائے ہرمز کے انتظام کے لیے نیا ادارہ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ خلیجی ممالک میں ڈرون حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ پاکستان نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر ہونے والے ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔