28°C Sunny

گوادر پورٹ پر ایک اور ٹرانسشپمنٹ کارگو جہاز لنگر انداز

گوادر پورٹ پر ایک اور ٹرانسشپمنٹ کارگو جہاز ایم وی شو لانگ لنگر انداز ہو گیا ہے جو 16 ہزار 77 میٹرک ٹن سامان پر مشتمل ہے۔ گوادر پورٹ اتھارٹی کے مطابق اس کھیپ میں 13 ہزار سے زائد پیکجز شامل ہیں جن میں چینی ساختہ صنعتی آلات اور پائپ شامل ہیں۔

حکام کے مطابق یہ سامان اصل میں کویت بھیجا جانا تھا تاہم اسٹریٹ آف ہرمز میں جاری بحری صورتحال کے باعث اسے گوادر کی طرف موڑ دیا گیا۔ اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کے دوران گوادر پورٹ متبادل تجارتی راستے کے طور پر تیزی سے اہمیت حاصل کر رہا ہے۔

گوادر پورٹ اتھارٹی کے چیئرمین نور الحق بلوچ کے مطابق اپریل 2026 کے دوران پورٹ پر چار ٹرانسشپمنٹ جہازوں کی آمد ریکارڈ کی گئی ہے جو بندرگاہ کی بڑھتی ہوئی استعداد اور علاقائی تجارت میں اس کے کردار کو ظاہر کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ موڑے گئے جہازوں کی ڈاکنگ، کارگو ہینڈلنگ اور دستاویزی کارروائی مؤثر انداز میں مکمل کی جا رہی ہے تاکہ عالمی تجارتی سرگرمیوں کے لیے پورٹ کی آپریشنل تیاری کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

حکام کے مطابق گوادر پورٹ کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں خطے میں متبادل سپلائی چین کے فروغ اور سمندری تجارت کے نئے راستوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں، جس سے پاکستان کی اسٹریٹجک اہمیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

Just In
27-10-2026
وفاقی حکومت کا ایف سی بلوچستان کے دائرہ کار میں توسیع کا فیصلہ مشرق وسطیٰ جنگ کے باعث ایشیا میں الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہ گوادر میں شہید پولیس کانسٹیبل محمد خُماری کے لیے قومی اعزاز کا اعلان – صدر مملکت نے ستارہ شجاعت بعد از شہادت عطا کرنے کی منظوری دے دی وزیراعظم شہباز شریف کا سوئٹزرلینڈ سے واپسی کا فیصلہ – ایران امریکا مذاکرات میں شرکت کے بعد وطن واپسی پاکستان میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ وزیراعظم شہباز شریف کا پاکستان اور اٹلی کے تعلقات مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی ہرمز بحران کے باعث شپنگ کمپنیوں کا گوادر پورٹ کی طرف رخ بڑھ گیا بلوچستان کے 12 اضلاع میں 25 ہزار نوجوانوں کے لیے روزگار منصوبہ، ابتدائی مرحلے میں 6 سے 7 ہزار افراد کو ملازمتیں دلانے کا ہدف امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی، پاکستان کی سفارتی کوششوں سے پیش رفت سلامتی کونسل میں منتخب ارکان کا کردار بڑھانے کے لیے پاکستان اور ترکیہ کا مشترکہ مؤقف، اصلاحات پر زور