30°C Sunny

بلوچستان میں گرین اصلاحات تیز، الیکٹرک بسیں اور سولر منصوبے منظور

بلوچستان حکومت نے پائیدار ترقی اور ماحولیاتی بہتری کے لیے بڑے فیصلے کرتے ہوئے کوئٹہ کی پبلک بس سروس کو الیکٹرک گاڑیوں میں تبدیل کرنے اور وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کو سولر توانائی پر منتقل کرنے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ بورڈ کے اجلاس میں وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت کیے گئے۔

اجلاس میں حکام نے بتایا کہ گرین اور پنک بس سروس کو مرحلہ وار الیکٹرک بسوں میں تبدیل کیا جائے گا تاکہ شہری آلودگی میں کمی اور عوام کو جدید، محفوظ اور آرام دہ سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ اسی طرح وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے منصوبے کی بھی منظوری دی گئی، جس سے اخراجات میں کمی اور ماحول دوست پالیسی کو فروغ ملے گا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں کو زیادہ مؤثر اور پائیدار بنا رہی ہے اور نجی شعبے کی مہارت سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماحول دوست ٹرانسپورٹ اور متبادل توانائی صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

دوسری جانب اعلیٰ سطحی اجلاس میں دیگر ترقیاتی منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ حکام کے مطابق عوامی سہولت کے لیے “پیپلز ٹرین سروس” 14 اگست کو شروع کرنے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے جبکہ اس کے ڈبے بھی تیار ہو چکے ہیں۔

سیکیورٹی اور شہری ترقی کے حوالے سے بتایا گیا کہ بلوچستان کے آٹھ بڑے شہروں کو 30 جون تک “سیف سٹی” بنانے کا منصوبہ ہے تاکہ شہری تحفظ کو بہتر بنایا جا سکے۔

صحت کے شعبے میں بلوچستان نے حفاظتی ٹیکہ جات کے اہداف کا 94 فیصد حاصل کر لیا ہے جبکہ تعلیم کے شعبے میں 2 ہزار 100 کمیونٹی اسکول قائم کیے گئے ہیں جن سے ایک لاکھ 36 ہزار سے زائد بچے دوبارہ تعلیم سے منسلک ہوئے ہیں۔

مزید برآں 900 یونین کونسلز میں 1 ہزار 255 واٹر فلٹریشن پلانٹس نصب کیے جا رہے ہیں جبکہ پانچ نئے ڈیمز کی تعمیر سے 42 ہزار ایکڑ سے زائد زمین کو سیراب کیا جائے گا۔ حکام نے منصوبوں کی بروقت تکمیل اور مسلسل نگرانی پر زور دیا تاکہ صوبے میں ترقیاتی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔