گوادر، پاکستان میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص اربوں روپے کے فنڈز کے اجرا اور استعمال کی صورتحال سامنے آئی ہے، جس میں متعدد منصوبوں میں فنڈز یا تو جاری نہیں ہوئے یا محدود سطح پر استعمال ہوئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق پانی کے وسائل کے تحت شہزانیگ ڈیم منصوبے کی مجموعی لاگت 2.23 ارب روپے ہے، تاہم 2025-26 کے لیے 220 ملین روپے مختص ہونے کے باوجود مارچ 2026 تک کوئی فنڈ جاری یا استعمال نہیں ہوا۔
اسی طرح گوادر سے بسیمہ کے راستے ریلوے لنک کے لیے 15.59 ارب روپے کے منصوبے میں صرف 3 ملین روپے استعمال ہوئے، جبکہ گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے 25 ارب روپے کے بزنس پلان میں سے صرف 75 ملین روپے جاری کیے گئے۔
تعلیمی وظائف کے منصوبے میں بھی 165 ملین روپے میں سے صرف 5 ملین روپے استعمال ہوئے، جبکہ بلیو اکانومی سینٹر کے لیے مختص 1.50 ارب روپے میں سے صرف 2 ملین روپے خرچ ہوئے۔
تاہم کچھ منصوبوں میں پیش رفت بہتر رہی، جن میں گوادر سیف سٹی پروجیکٹ اور پانی کی فراہمی کا منصوبہ شامل ہیں، جہاں فنڈز کا بڑا حصہ استعمال کر لیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق فنڈز کے سست اجرا اور جزوی استعمال سے ترقیاتی منصوبوں کی رفتار متاثر ہو رہی ہے، جبکہ حکام کے مطابق مختلف محکموں میں عملدرآمد جاری ہے۔