اسٹریٹ آف ہرمز کی بندش اور عالمی توانائی بحران کے تناظر میں پاکستان کی توانائی سلامتی پر دوبارہ غور کیا جا رہا ہے، جہاں ماہرین کے مطابق چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) مستقبل میں ملک کے لیے ایک متبادل اور مضبوط توانائی نظام تشکیل دے سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اپنی توانائی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدی تیل اور گیس پر پورا کرتا ہے اور تقریباً 80 سے 85 فیصد پیٹرولیم مصنوعات بیرون ملک سے منگوائی جاتی ہیں، جن کا بڑا حصہ ہرمز آبنائے سے گزرتا ہے۔ اس انحصار کے باعث کسی بھی عالمی کشیدگی کی صورت میں ملک کی معیشت فوری طور پر متاثر ہوتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سی پیک کے تحت گوادر کو توانائی کے ایک بڑے علاقائی مرکز کے طور پر ترقی دی جا سکتی ہے جہاں اسٹریٹجک تیل ذخائر اور جدید اسٹوریج سہولیات قائم کر کے ہنگامی صورتحال میں سپلائی کا بفر بنایا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کے لیے وسطی ایشیا کے توانائی وسائل سے فائدہ اٹھانے کے امکانات بھی موجود ہیں، تاہم افغانستان کی جغرافیائی صورتحال اور سیکیورٹی چیلنجز اس راستے میں رکاوٹ ہیں۔ اس کے باوجود چین کے ذریعے توانائی کوریڈورز کو جنوب کی طرف پاکستان تک بڑھانے کا امکان زیر بحث ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ وسطی ایشیائی ممالک کی اضافی پن بجلی پیداوار کو پاکستان کی گرمیوں کی بلند طلب سے جوڑ کر بجلی کے بحران میں کمی لائی جا سکتی ہے، جس کے لیے علاقائی ٹرانسمیشن نظام کو بہتر بنانا ضروری ہوگا۔
رپورٹ میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ پاکستان کو اندرونی سطح پر بھی توانائی نظام کو جدید بنانا ہوگا، خاص طور پر دور دراز علاقوں میں شمسی، ہوا اور چھوٹے پن بجلی منصوبوں پر مبنی مائیکرو گرڈز کو فروغ دیا جائے۔
ٹرانسپورٹ کے شعبے میں برقی گاڑیوں کی طرف منتقلی کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے، جس سے تیل کی درآمدات میں کمی اور صنعتی ترقی دونوں ممکن ہو سکتی ہیں۔
مجموعی طور پر ماہرین کے مطابق موجودہ عالمی بحران یہ واضح کرتا ہے کہ پاکستان کو ایک ہی سپلائی روٹ پر انحصار ختم کر کے توانائی کے متنوع اور محفوظ ذرائع کی طرف جانا ہوگا۔