30°C Sunny

پاکستان نے کرغزستان کے لیے زمینی تجارتی راستہ باضابطہ طور پر شروع کر دیا

پاکستان کسٹمز نے کراچی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون سے کرغزستان کے لیے پہلی زمینی برآمدی کھیپ روانہ کر دی ہے جو ٹی آئی آر نظام کے تحت سوسٹ ڈرائی پورٹ اور چین کے راستے وسطی ایشیا تک پہنچے گی۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے مطابق یہ اقدام پاکستان کے لیے وسطی ایشیائی منڈیوں تک رسائی بڑھانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

حکام کے مطابق اس کھیپ کی مالیت 59 ہزار 314 ڈالر اور وزن 23.9 ٹن تھا جس میں مختلف اشیاء جیسے تیل، چائے، مہندی، جڑی بوٹیاں، کریم اور صابن شامل تھے، جو ہیمانی گروپ نے برآمد کیں۔

کھیپ کو پاکستان سنگل ونڈو سسٹم کے ذریعے الیکٹرانک طور پر کلیئر کیا گیا جبکہ ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کو باقاعدہ ٹی آئی آر اسٹیشن کے طور پر فعال کیا گیا۔ اس عمل میں ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹرانزٹ ٹریڈ کراچی نے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر نظام کو مربوط کیا۔

حکام کے مطابق یہ نیا زمینی راستہ پاکستانی برآمد کنندگان کو وسطی ایشیائی ممالک تک براہ راست رسائی فراہم کرے گا، جس سے تجارتی مواقع میں اضافہ ہوگا اور برآمدات کے دائرہ کار کو وسعت ملے گی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کے ذریعے روایتی زمینی راستے سیکیورٹی خدشات کے باعث بند ہونے کے بعد پاکستان نے ایران اور چین کے ذریعے متبادل تجارتی کوریڈورز پر انحصار بڑھا دیا ہے۔ اسی تناظر میں ایران کے راستے چھ نئے ٹرانزٹ روٹس بھی حال ہی میں نوٹیفائی کیے گئے ہیں۔

حکام کے مطابق یہ اقدام پاکستان کی تجارتی سفارت کاری اور علاقائی رابطوں کو مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے تاکہ ملک کی برآمدی منڈیوں کو زیادہ مستحکم اور متنوع بنایا جا سکے۔