34°C Storm

پاکستان نے چین سے مقامی ای او تھری سیٹلائٹ کامیابی سے لانچ

اسلام آباد، پاکستان میں دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے اپنا مقامی الیکٹرو آپٹیکل سیٹلائٹ ای او تھری چین کے تائی یوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے کامیابی کے ساتھ خلا میں بھیج دیا، جسے ملکی خلائی پروگرام میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔ اس مشن کو پاکستان خلائی و بالائی فضائی تحقیقاتی کمیشن (سپارکو) نے مکمل کیا۔

حکام کے مطابق ای او تھری کو جدید تصویری مشن کے لیے تیار کیا گیا ہے جس میں نئی نسل کی خلائی ٹیکنالوجی کی آزمائش کے لیے تجرباتی نظام بھی شامل ہیں، جن میں بہتر درستگی کے لیے ملٹی جیومیٹری امیجنگ ماڈیول، جدید توانائی ذخیرہ نظام اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیٹا پراسیسنگ یونٹ شامل ہے جو حقیقی وقت میں تجزیہ اور فیصلہ سازی میں مدد دے گا۔

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ اس سیٹلائٹ کے اضافے سے پاکستان کی ریموٹ سینسنگ صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا، جس سے زرعی نگرانی، آفات سے نمٹنے اور دیگر سماجی و معاشی شعبوں میں ڈیٹا کی درستگی اور تسلسل بہتر ہوگا۔ چینی خبر رساں ادارے کے مطابق سیٹلائٹ کو لانگ مارچ سکس راکٹ کے ذریعے بیجنگ وقت کے مطابق رات آٹھ بج کر پندرہ منٹ پر خلا میں بھیجا گیا اور یہ کامیابی سے اپنے مدار میں داخل ہو گیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اس کامیابی پر سپارکو کے سائنسدانوں اور انجینئرز کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان کے خلائی پروگرام کے فروغ کے لیے پرعزم ہے، جبکہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اس کامیابی کو ملکی سائنسی صلاحیت کا مظہر قرار دیا۔

یہ پیش رفت پاکستان کے حالیہ خلائی منصوبوں کا تسلسل ہے، اس سے قبل فروری میں ای او ٹو سیٹلائٹ اور جولائی 2025 میں ایک ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ بھی چین سے لانچ کیا گیا تھا، جس کا مقصد زرعی نگرانی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت کو بہتر بنانا تھا۔