30°C Sunny

بلوچستان اسمبلی میں سرداری نظام کے خاتمے کی قرارداد نمٹا دی گئی، اسپیکر کے مطابق 1976 میں قانون سازی ہو چکی

بلوچستان اسمبلی میں سرداری نظام کے خاتمے کی قرارداد نمٹا دی گئی، اسپیکر کے مطابق 1976 میں قانون سازی ہو چکی

بلوچستان اسمبلی میں روایتی سرداری نظام کے فوری خاتمے اور گفتگو و تحریر میں سردار اور نواب کے القابات کے استعمال پر پابندی سے متعلق قرارداد پیش نہ ہو سکی۔ اسپیکر نے قانونی اور عدالتی ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ سرداری نظام کے خاتمے کے لیے 1976 میں قانون منظور کیا جا چکا ہے، جو ملک بھر میں نافذ العمل ہے۔

جماعت اسلامی کے رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے یہ قرارداد ایوان کے ایجنڈے میں شامل کرائی تھی۔ اسپیکر کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی نے بتایا کہ اس معاملے پر بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلے بھی موجود ہیں، جنہیں وفاقی آئینی عدالت نے 6 مارچ 2026 کو برقرار رکھا تھا۔ ان قانونی اور عدالتی فیصلوں کی روشنی میں اسپیکر نے قرارداد کو نمٹا دیا۔

اس فیصلے کے بعد مولانا ہدایت الرحمان نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ قرارداد ایجنڈے میں شامل تھی اور وہ اس کے متن میں ترمیم کرکے دوبارہ پیش کریں گے۔ اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری نے اعتراض کیا کہ اسپیکر کی جانب سے قرارداد نمٹائے جانے کے بعد اس معاملے پر دوبارہ بحث نہیں ہو سکتی۔ اس پر دونوں ارکان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔

پارلیمانی سیکریٹری آغا عمر احمدزئی نے کہا کہ سرداری نظام ہزاروں سال سے موجود ہے اور اسے کسی ایک شخص کی تخلیق قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی فرد ظلم یا ناانصافی کا مرتکب ہو تو اسے جواب دہ ٹھہرایا جائے، تمام سرداروں پر اجتماعی الزام لگانا مناسب نہیں۔ پارلیمانی سیکریٹری نوابزادہ زرین مگسی نے بھی اسپیکر کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کو آگے بڑھانے کے لیے نئی قرارداد پیش کی جا سکتی ہے۔

اسپیکر نے وضاحت کی کہ مولانا ہدایت الرحمان دراصل سرداری نظام کے خلاف پہلے سے موجود قانون پر عمل درآمد کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ان کا مؤقف سنا جانا چاہیے۔ تاہم مزید بحث سے قبل ایوان میں ارکان کی مطلوبہ تعداد پوری نہ رہی، جس کے باعث اجلاس 10 نومبر کو سہ پہر 3 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔