وفاقی کابینہ کمیٹی کی پی ایس او اور ڈیجیٹل اثاثہ جات کمپنی کے بورڈ ارکان کی تقرریوں کی منظوری، فارما ایکسپورٹ کونسل کی تجویز مؤخر
وفاقی کابینہ کی سرکاری ملکیتی اداروں سے متعلق کمیٹی نے پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او)، اسٹریٹجک ڈیجیٹل والٹ کمپنی اور کلین انوائرمنٹ فنڈ کمپنی کے بورڈز میں تقرریوں کی منظوری دے دی ہے، جبکہ پاکستان فارما ایکسپورٹ پروموشن کونسل کے قیام کی تجویز مزید مشاورت کے لیے مؤخر کر دی گئی ہے۔
اس سلسلے میں کمیٹی کا اجلاس پیر کو وزارتِ خزانہ میں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی صدارت میں ہوا، جس میں وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے بھی شرکت کی۔
اجلاس میں پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے پیش کردہ سمری منظور کرتے ہوئے پی ایس او کے بورڈ آف مینجمنٹ میں ایک خاتون آزاد ڈائریکٹر اور ایک دیگر آزاد رکن کی نامزدگی کی منظوری دی گئی۔ یہ تقرریاں ادارے کے سابقہ بورڈ کی قانونی مدت مکمل ہونے کے بعد بورڈ کی ازسرِنو تشکیل کا حصہ ہیں۔
کمیٹی نے وزارتِ خزانہ کی سفارش پر اسٹریٹجک ڈیجیٹل والٹ کمپنی کے بورڈ میں چار آزاد ڈائریکٹرز کی تقرری کی بھی منظوری دی۔ یہ کمپنی پاکستان کے خودمختار ورچوئل اثاثوں کے انتظام، تحفظ اور نگرانی کے لیے قائم کی گئی ہے۔
اسی طرح وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری کی تجویز پر کلین انوائرمنٹ فنڈ کمپنی کو فعال کرنے کی منظوری دی گئی۔ یہ کمپنی پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کے تحت کام کرے گی۔ اس کے بورڈ میں دو عہدہ جاتی ڈائریکٹرز اور تین آزاد ڈائریکٹرز کی تقرری بھی منظور کی گئی۔ کمپنی کا مقصد ماحولیاتی تحفظ، قدرتی وسائل کے تحفظ، بحالی اور بہتری کے منصوبوں کے لیے وسائل کی فراہمی اور مؤثر استعمال میں معاونت کرنا ہے۔
دوسری جانب، کمیٹی نے وزارتِ تجارت کی جانب سے پاکستان فارما ایکسپورٹ پروموشن کونسل کو کمپنیز ایکٹ 2017 کے سیکشن 42 کے تحت قائم کرنے کی تجویز کا جائزہ لیا۔ مجوزہ کونسل تجارتی ترقی کے ادارے پاکستان (ٹی ڈی اے پی) کے انتظامی کنٹرول میں کام کرتی، تاہم کمیٹی نے متعلقہ فریقوں سے مزید مشاورت کی ہدایت کرتے ہوئے تجویز مؤخر کر دی۔ وزارتِ تجارت کو ہدایت کی گئی ہے کہ مشاورت مکمل کرنے کے بعد اسے دوبارہ منظوری کے لیے پیش کیا جائے۔