بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر کے مغربی ساحل پر نامعلوم ذرائع سے تیل کے رساؤ کی اطلاع ملی ہے، جس کے باعث سمندری ماحولیاتی نظام اور مقامی ماہی گیری کے شعبے کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ ساحل کے بڑے حصے اور سمندر کی سطح پر خام تیل کی موجودگی دیکھی گئی ہے، جو وسیع پیمانے پر آلودگی کی نشاندہی کرتی ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق متاثرہ علاقے میں مختلف سمندری جاندار، جن میں مچھلیاں اور کچھوے شامل ہیں، مردہ پائے گئے ہیں، جس سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تیل کا رساؤ مقامی حیاتیاتی نظام کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر بروقت صفائی کے اقدامات نہ کیے گئے تو یہ صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
ماحولیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تیل کا یہ رساؤ مچھلیوں کی افزائش کے علاقوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے، ساحلی ماحول کو متاثر کر سکتا ہے اور ماہی گیری کی پیداوار میں نمایاں کمی کا باعث بن سکتا ہے، جس کا براہ راست اثر مقامی معیشت پر پڑے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر تیز مغربی ہواؤں کے باعث یہ تیل سمندری راستے سے مکران کے ساحل تک پہنچا ہے۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق قریبی آبنائے ہرمز، جو عالمی شپنگ کے لیے اہم سمندری راستہ ہے، سے آنے والی آلودگی بھی اس رساؤ کی ممکنہ وجہ ہو سکتی ہے۔
انتظامیہ نے متاثرہ علاقے میں صورتحال کا جائزہ لینے اور صفائی آپریشن شروع کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے، جبکہ ماحولیاتی تحفظ کے اداروں کو بھی فوری اقدامات کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔