30°C Sunny

بلوچستان کے 12 اضلاع میں 25 ہزار نوجوانوں کے لیے روزگار منصوبہ، ابتدائی مرحلے میں 6 سے 7 ہزار افراد کو ملازمتیں دلانے کا ہدف

بلوچستان کے 12 اضلاع میں 25 ہزار نوجوانوں کے لیے روزگار منصوبہ، ابتدائی مرحلے میں 6 سے 7 ہزار افراد کو ملازمتیں دلانے کا ہدف

وفاقی وزیر اور وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود نے بلوچستان کے نوجوانوں میں بے روزگاری، غربت اور عدم تحفظ کے مسائل سے نمٹنے کے لیے حکومت اور کاروباری برادری کے مشترکہ اقدامات پر زور دیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جنوبی بلوچستان کے 12 اضلاع میں شناخت کیے گئے 25 ہزار نوجوانوں کے لیے ایک پائلٹ منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے، جس کے ابتدائی مرحلے میں تقریباً 6 ہزار سے 7 ہزار نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے میں مدد دی جائے گی، جبکہ باقی نوجوانوں کو فنی تربیت اور ملازمتوں کے ذریعے مستفید کرنے کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رانا مشہود نے کہا کہ پاکستان ایک اہم مرحلے سے گزر رہا ہے اور عالمی سطح پر ابھرنے والے مواقع ملک کی معاشی و تزویراتی حیثیت کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔ تاہم، ان کے بقول ملکی ترقی کے لیے بلوچستان اور خیبرپختونخوا جیسے حساس علاقوں کے مسائل حل کرنا بھی ضروری ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے پاکستان اور آئین کے خلاف ہتھیار اٹھانے والے عناصر کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پائیدار امن سرمایہ کاری، صنعتی ترقی اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے، جبکہ نوجوانوں کو معاشی مواقع فراہم کرنا بھی ناگزیر ہے تاکہ محرومیوں کا فائدہ اٹھانے والے ریاست مخالف عناصر کی جانب ان کے جھکاؤ کو روکا جا سکے۔

رانا مشہود نے کراچی کی کاروباری اور صنعتی برادری پر زور دیا کہ وہ ملازمتوں کی ضروریات کی نشاندہی کرے اور صنعتوں سے متعلقہ مہارتوں پر مبنی تربیتی پروگرام تیار کرنے میں تعاون کرے۔

انہوں نے بتایا کہ منصوبے میں نیوٹیک (NAVTTC)، صوبائی فنی و پیشہ ورانہ تربیتی اداروں، سمیڈا، پاکستان بیت المال، ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ اور دیہی معاونت کے پروگراموں سمیت مختلف وفاقی و صوبائی ادارے شریک ہوں گے۔ تربیتی کورسز عموماً تین سے چھ ماہ پر مشتمل ہوں گے، جن میں فنی تعلیم، سرٹیفکیشن، پیشہ ورانہ اخلاقیات، نرم مہارتوں اور شہری ذمہ داریوں کو شامل کیا جائے گا۔

جہاں مناسب سہولیات دستیاب ہوں گی، تربیت بلوچستان میں ہی فراہم کی جائے گی، جبکہ اضافی گنجائش کے لیے سندھ کی منتخب جامعات اور اداروں سے بھی تعاون لیا جائے گا۔ بی ایم جی کے چیئرمین زبیر موتی والا نے اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کی تربیت کے ساتھ صنعتی بحالی اور سرمایہ کاری کا جامع پیکیج بھی ضروری ہے۔

Just In
27-10-2026
بلوچستان میں اینٹیمنی سمیت اہم معدنیات کی تلاش کے لیے پاکستان اور ترکیہ کا مشترکہ منصوبہ، پشین میں 499 مربع کلومیٹر علاقے پر توجہ اسلام آباد میں غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف کارروائی، این سی سی آئی اے نے 212 افراد کو حراست میں لے لیا پاکستان، چین کے درمیان سی پیک 2.0 کے تحت معاشی تعاون مزید مضبوط رخنی بازار اپگریڈ منصوبے کی منظوری، تجارتی سرگرمیوں اور روزگار میں اضافہ متوقع پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن بلوچستان نے تربت ٹیچنگ اسپتال میں مکران چیپٹر کے دفتر کا افتتاح کردیا بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 11 بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد ہلاک گوادر، 14 اپریل (ویب ڈیسک): ضلعی انتظامیہ گوادر نے ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ کی زیر صدارت ایک منفرد کھلی کچہری کا انعقاد کیا جس میں عوامی مسائل براہِ راست سنے گئے۔ تفصیلات کے مطابق کھلی کچہری میں شہریوں نے شہری سہولیات، صحت، تعلیم اور بنیادی انفراسٹرکچر سے متعلق شکایات اور مسائل پیش کیے۔ ڈپٹی کمشنر نے موقع پر متعدد مسائل کے فوری حل کے احکامات جاری کیے اور بعض معاملات پر ریلیف اقدامات کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ عوامی شکایات کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام شہری و سماجی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ لاہور سے راولپنڈی ہائی اسپیڈ ٹرین کا آغاز، سفر دو گھنٹے پندرہ منٹ میں بلوچستان میں ٹرین سروس معطل، ریلوے نظام مکمل طور پر بند پاکستان اور نیپال کا تجارت، سیاحت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق