31°C Storm

پاکستان میں آئی ایم ایف اصلاحات کے تحت سرکاری ملازمین کے اثاثوں کی تفصیلات شائع کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد، پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ طے شدہ 7 ارب ڈالر کے توسیعی پروگرام کے تحت بدعنوانی کے خلاف بڑے اصلاحاتی اقدامات پر عملدرآمد کا عہد کیا ہے، جن میں سول سرونٹس کے اثاثہ جات کی تفصیلات دسمبر 2026 تک عوامی سطح پر شائع کرنا شامل ہے۔

ان اصلاحات کے تحت Federal Board of Revenue جون 2026 تک ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم تیار کرے گا جس کے ذریعے سرکاری افسران اپنے اثاثہ جات جمع اور تصدیق کر سکیں گے، جبکہ فارم کو مئی 2026 تک اپ ڈیٹ کیا جائے گا تاکہ رازداری کی حدود واضح کی جا سکیں۔

حکومت کے مطابق بدعنوانی سے متعلق تحقیقات، مقدمات اور سزاؤں کے سالانہ اعداد و شمار بھی شائع کیے جائیں گے تاکہ شفافیت کو فروغ دیا جا سکے۔ اسی طرح بینکوں کو سرکاری افسران کے اثاثہ جات تک محدود مگر توسیع شدہ رسائی دی جائے گی تاکہ مالی نگرانی کو بہتر بنایا جا سکے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ احتسابی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے ملک کے سب سے زیادہ خطرے والے 10 محکموں کی نشاندہی کی جائے گی اور ان کیلئے خصوصی اینٹی کرپشن ایکشن پلان تیار کیا جائے گا، جس کی تکمیل اکتوبر 2026 تک متوقع ہے۔

حکام کے مطابق اس عمل کی نگرانی کیلئے مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جبکہ اپریل اور جولائی 2026 میں ترقیاتی شراکت داروں اور سول سوسائٹی کی شرکت سے جائزہ اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔

صوبائی سطح پر بھی اینٹی کرپشن اداروں کو مزید بااختیار بنایا جائے گا تاکہ مالی جرائم، خصوصاً منی لانڈرنگ کے کیسز کی مؤثر تحقیقات ممکن بنائی جا سکیں۔