26°C Sunny

پاکستان کا ایم ایل ون منصوبے کے لیے 2.5 ارب ڈالر کی عالمی قرض دہندگان سے مشترکہ مالی معاونت حاصل کرنے کا فیصلہ

پاکستان نے مین لائن ون ریلوے منصوبے کی تعمیر کے لیے بین الاقوامی قرض دہندگان کے مشترکہ مالیاتی منصوبے سے تقریباً 2.5 ارب ڈالر حاصل کرنے کی کوششیں تیز کردی ہیں، جبکہ ایشیائی ترقیاتی بینک مرکزی کردار ادا کرتے ہوئے ایک ارب ڈالر سے زائد فراہم کرسکتا ہے۔ ایشیائی انفراسٹرکچر سرمایہ کاری بینک اور عالمی بینک کی جانب سے بھی مالی معاونت میں شامل ہونے کی توقع ہے۔ وفاقی وزیر اقتصادی امور سینیٹر احد چیمہ کے مطابق ایم ایل ون کے لیے تقریباً 2.5 ارب ڈالر درکار ہوں گے اور یہ رقم مختلف مراحل میں فراہم کی جائے گی۔ منصوبے کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے وفاقی وزیر نے ایشیائی ترقیاتی بینک کے وفد سے ملاقات کی، جس میں ڈیزائن کی تکمیل اور دیگر تیاریوں پر گفتگو ہوئی۔ ایشیائی ترقیاتی بینک نے بتایا کہ اس کی تکنیکی ٹیم اور منصوبے کے مشیر ڈیزائن پر کام کر رہے ہیں اور اکتوبر 2026 تک اسے مکمل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ڈیزائن کی منظوری کے بعد خریداری اور عملی مراحل شروع کیے جائیں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ایم ایل ون کو ترجیحی منصوبہ قرار دیا ہے اور حکومت منصوبے کو جلد عملی مرحلے میں لانے کے لیے ضروری تقاضے بروقت مکمل کرنے کے عزم کا اظہار کرچکی ہے۔ ایم ایل ون منصوبہ گزشتہ کئی برسوں سے مالی معاونت اور دیگر معاملات کے باعث تاخیر کا شکار رہا ہے