27°C Sunny

جماعت اسلامی کا 29 اگست سے گورنر ہاؤس بلوچستان کے باہر دھرنے کا اعلان

کوئٹہ میں جماعت اسلامی بلوچستان نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے مبینہ طور پر معاہدوں پر عملدرآمد نہ کرنے، پٹرولیم لیوی، بھتہ خوری اور خراب امن و امان کے خلاف 29 اگست سے گورنر ہاؤس کے باہر دھرنا دینے کا اعلان کردیا۔ جماعت اسلامی بلوچستان کے نائب امیر زاہد اختر بلوچ نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنے تحریری معاہدوں پر عملدرآمد اور جماعت کے مطالبات پورے نہیں کرتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال جماعت اسلامی کے لانگ مارچ کے بعد وفاقی حکومت نے تحریری معاہدہ کیا تھا، تاہم اس کی یقین دہانیوں پر تاحال عمل نہیں ہوا۔ انہوں نے صوبائی حکومت پر بھی بلوچستان میں امن کی بحالی، تجارتی سرگرمیوں کے لیے سرحدی گزرگاہیں کھولنے اور سستے پٹرول کی فراہمی سے متعلق وعدے پورے نہ کرنے کا الزام عائد کیا۔ زاہد اختر نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں پٹرول 150 روپے فی لیٹر فراہم کیا جائے اور پٹرولیم مصنوعات پر اضافی بوجھ ختم کیا جائے۔ انہوں نے امن و امان کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھاری رقم خرچ ہونے کے باوجود عوام کو تحفظ حاصل نہیں۔ ان کے مطابق 29 اگست کے دھرنے میں بلوچستان بھر سے جماعت اسلامی کے کارکن شرکت کریں گے، جبکہ احتجاج کی قیادت امیر بلوچستان مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ کریں گے۔