29°C Sunny

بلوچستان میں معاشی تبدیلی کا نیا مرحلہ شروع – گوادر، ریکوڈک، توانائی اور علاقائی رابطہ کاری قومی ترقی کے اہم محرک بن گئے

بلوچستان کو کئی دہائیوں تک جغرافیائی دوری اور بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث پاکستان کے نسبتاً پسماندہ خطے کے طور پر دیکھا جاتا رہا، تاہم حالیہ برسوں میں صوبہ ملک کی جیو اکنامک حکمت عملی میں مرکزی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

یوران پاکستان اور 5Es فریم ورک کے تحت انفراسٹرکچر، برآمدات، توانائی، ڈیجیٹل رابطہ کاری، ماحولیات اور انسانی ترقی پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران مغربی کوریڈور، توانائی کے نظام اور ساحلی رابطہ کاری کے منصوبوں پر وفاقی اور صوبائی سطح پر ایک ٹریلین روپے سے زائد سرمایہ کاری کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

ایم 8 موٹروے اور این 85 شاہراہ نے گوادر کو ملک کے دیگر حصوں سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جبکہ این 26 کو دو رویہ شاہراہ میں تبدیل کرنے کا منصوبہ کاروباری اور صنعتی سرگرمیوں میں مزید اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔

مالی سال 2026-27 کے لیے بلوچستان کا ریکارڈ ایک کھرب 89 ارب روپے کا صوبائی بجٹ بھی ترقیاتی ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے۔ ریکوڈک منصوبہ معدنی شعبے میں بڑے سرمایہ کاری مواقع پیدا کر رہا ہے، جبکہ کچھی کینال کی توسیع اور زرعی ٹیوب ویلوں کی سولرائزیشن سے زرعی پیداوار اور توانائی کے شعبے میں بہتری کی توقع ہے۔

گوادر پورٹ، نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ایسٹ بے ایکسپریس وے بلوچستان کو علاقائی تجارت کے اہم مرکز کے طور پر آگے بڑھا رہے ہیں۔ مضمون کے مطابق سکیورٹی، انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاری ایک دوسرے سے جڑے عوامل ہیں، جبکہ بہتر امن و امان بلوچستان میں طویل مدتی معاشی سرگرمیوں اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کر سکتا ہے۔

Just In
27-10-2026