خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے اقوام متحدہ کے ساتھ پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) کے حوالے سے قریبی تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ترقی، صحت اور موسمیاتی تبدیلی جیسے شعبوں میں عالمی ادارے کے ساتھ مشترکہ کوششوں کو مزید مضبوط بنائے گا۔ ایوان صدر میں اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر محمد یحییٰ اور مختلف ایجنسیوں کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور قومی ترقیاتی ترجیحات میں اس کی شراکت کو اہم سمجھتا ہے۔ اجلاس میں صحت، تعلیم، سماجی تحفظ، ماحولیاتی تحفظ اور بچوں کی فلاح و بہبود سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ آصفہ بھٹو نے پولیو کے خاتمے کے لیے اپنی حمایت جاری رکھنے کا اعادہ کیا اور کہا کہ جدید ٹیکنالوجی خصوصاً مصنوعی ذہانت کے استعمال سے پولیو ویکسین کی ہر گھر تک رسائی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے حکام نے آئندہ 12 ماہ کو پولیو کے خاتمے کے لیے انتہائی اہم قرار دیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ پاکستان میں تقریباً 41 فیصد بچے نشوونما کی کمی (اسٹنٹنگ) کا شکار ہیں جبکہ ماں اور بچے کی صحت، غذائی قلت اور نوجوان لڑکیوں میں صحت کے مسائل بھی بڑے چیلنجز ہیں۔ آصفہ بھٹو نے کہا کہ خواتین اور بچوں کی صحت پیپلز پارٹی کے منشور کا اہم حصہ ہے اور اس مقصد کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ نے پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
