پاکستان نے ایک بار پھر بھارت کے ساتھ تعلقات میں مذاکرات اور سفارت کاری کو بنیادی پالیسی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں بھرپور اور طاقتور جواب دیا جائے گا۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ پاکستان تمام دوطرفہ تنازعات کے حل کے لیے ہمیشہ بات چیت اور سفارت کاری پر زور دیتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں پر مبنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر، پانی کے تنازعات، اسلحہ کنٹرول، تخفیف اسلحہ اور انسانی مسائل پر قانونی اور سیاسی بنیادوں پر مؤقف رکھتا ہے اور ان معاملات کا حل صرف مذاکرات سے ممکن ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان کسی بھی ممکنہ جارحیت کی صورت میں خاموش نہیں رہے گا اور اگر دوبارہ کوئی حملہ کیا گیا تو پاکستان بھرپور طاقت اور تمام دستیاب وسائل کے ساتھ جواب دے گا۔
انہوں نے گزشتہ سال کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے پہلے بھی واضح پیغام دیا تھا اور آئندہ بھی قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
بریفنگ میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی رابطوں پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کو امید ہے کہ دونوں ممالک جلد کسی معاہدے تک پہنچ جائیں گے جس سے خطے میں استحکام آئے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ان مذاکرات میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے اور اعتماد کی بنیاد پر کسی بھی تفصیل کو ظاہر نہیں کیا جا سکتا۔
دفتر خارجہ نے مجموعی طور پر کہا کہ پاکستان کی پالیسی خطے میں امن، استحکام اور سفارت کاری کے فروغ پر مبنی ہے، تاہم قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔