پاکستانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک عارضی معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں، جس کے تحت فوری طور پر جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری راستوں کی بحالی ممکن ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس ممکنہ “انٹرِم ڈیل” پر کام تیزی سے جاری ہے اور امکان ہے کہ ابتدائی معاہدہ ہفتے کے آخر تک سامنے آ سکتا ہے، جبکہ ایران امریکی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے۔
اسلام آباد میں موجود ایک سفارتی ذریعے کے مطابق دونوں فریقین کے مؤقف میں بتدریج نرمی آ رہی ہے اور مذاکرات میں فاصلہ کم ہو رہا ہے، جو کسی ابتدائی سمجھوتے کی طرف اشارہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان ان غیر مستقیم مذاکرات میں اہم ثالثی کردار ادا کر رہا ہے اور گزشتہ ماہ ناکام براہِ راست مذاکرات کی میزبانی بھی کر چکا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مجوزہ ابتدائی معاہدے میں جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز کی بحالی اور بحری راستوں کی حفاظت شامل ہو سکتی ہے، جبکہ اس کے بعد نیا مرحلہ 30 روز کے اندر ایران کے جوہری پروگرام پر تفصیلی مذاکرات پر مشتمل ہوگا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی حالیہ بیان میں معاہدے کے امکانات پر امید ظاہر کی ہے تاہم ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ ناکامی کی صورت میں فوجی کارروائی دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔
عالمی منڈیوں نے ان خبروں پر مثبت ردعمل دیا ہے اور تیل کی قیمتوں میں کمی جبکہ اسٹاک مارکیٹس میں بہتری دیکھی گئی ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق اسلام آباد امید رکھتا ہے کہ فریقین جلد کسی پائیدار اور امن پر مبنی معاہدے تک پہنچ جائیں گے جو خطے میں استحکام کا باعث بنے گا۔