یورپی یونین اور پاکستان کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری تعلقات کو فروغ دینے کے لیے اعلیٰ سطحی یورپی یونین پاکستان بزنس فورم آج اسلام آباد میں شروع ہو رہا ہے۔ دو روزہ فورم میں پالیسی سازوں، کاروباری شخصیات، سرمایہ کاروں اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے نمائندگان شرکت کر رہے ہیں تاکہ مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع تلاش کیے جا سکیں۔
یہ فورم ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنے اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یورپی یونین پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی اور چین کے بعد دوسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے، جہاں پاکستان کی برآمدات خصوصاً ٹیکسٹائل شعبے پر مشتمل ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق یہ فورم دونوں فریقین کے لیے “مذاکرات سے عملی معاہدوں” کی جانب بڑھنے کا ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔ انہوں نے یورپی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں موجود مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں زراعت، فوڈ پروسیسنگ، معدنیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، جدید مینوفیکچرنگ اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں وسیع امکانات موجود ہیں۔
فورم کے دوران بزنس ٹو بزنس اور بزنس ٹو گورنمنٹ ملاقاتوں کے ذریعے مختلف شعبوں جیسے ٹیکسٹائل، زراعت، فارماسیوٹیکل، ہیلتھ کیئر آلات، قابل تجدید توانائی اور گرین لاجسٹکس میں تعاون کو فروغ دینے پر بات چیت کی جائے گی۔
یورپی یونین کے جی ایس پی پلس پروگرام کے تحت پاکستان کو کئی مصنوعات پر ڈیوٹی فری یا کم ٹیرف رسائی حاصل ہے، جو دوطرفہ تجارت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ حکام کے مطابق اس فورم کے ذریعے سرمایہ کاری بڑھانے، مشترکہ منصوبوں کے آغاز اور اقتصادی تعلقات کو مزید وسعت دینے کی راہ ہموار ہوگی۔