اسلام آباد، 2 اپریل 2026: چین نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ توانائی کمپنی یونائیٹڈ انرجی پاکستان کے واجب الادا 220 ملین ڈالر کی ادائیگی فوری طور پر مکمل کرے، جبکہ تاخیر کو سرمایہ کاری کے اعتماد اور توانائی شعبے کی کارکردگی کے لیے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ واجبات سوئی سدرن گیس کمپنی (SSGC) کے ذمے ہیں، جو یونائیٹڈ انرجی پاکستان کو فراہم کی گئی گیس کی مد میں ادا کیے جانے ہیں۔ حکام کے مطابق پاکستان کے سفیر نے بیجنگ میں یہ معاملہ چینی حکام کے سامنے اٹھایا۔
ذرائع کے مطابق یونائیٹڈ انرجی پاکستان اس وقت یومیہ تقریباً 260 سے 270 ملین مکعب فٹ گیس سپلائی کر رہی ہے، تاہم کمپنی کو مالی لیکویڈیٹی کے مسائل کا سامنا ہے جس کے باعث اس نے اخراجات کم کرنے کے لیے بعض اقدامات بھی کیے ہیں، جن میں عملے میں کمی بھی شامل ہے۔
دوسری جانب اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) نے بھی فوری طور پر واجبات کی ادائیگی پر زور دیا ہے تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے ماحول کو متاثر ہونے سے بچایا جا سکے۔
تاہم سوئی سدرن گیس کمپنی کا مؤقف ہے کہ وہ اس وقت تک ادائیگی نہیں کر سکتی جب تک فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کی جانب سے اس کے اربوں روپے کے ریفنڈز جاری نہیں کیے جاتے، جو اس کی مالی مشکلات کی بڑی وجہ ہیں۔
یونائیٹڈ انرجی پاکستان، جو یونائیٹڈ انرجی گروپ کی ذیلی کمپنی ہے، نے 2011 میں بی پی پاکستان کے اثاثے حاصل کیے تھے اور بعد ازاں 2018 میں 192 ملین ڈالر میں او ایم وی گیس فیلڈز بھی خریدے تھے۔
حکام کے مطابق اس مالی تنازعے کے حل کو پاکستان کے توانائی شعبے کے استحکام اور جاری آپریشنز کی روانی کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ شعبہ پہلے ہی لیکویڈیٹی اور ریگولیٹری دباؤ کا شکار ہے۔