چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران میں ایرانی قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں، جن میں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے، علاقائی امن کے فروغ اور ایران امریکا تنازع کے پرامن حل کے لیے سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں سپریم لیڈر کے نمائندے محسن رضائی، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے ملاقاتیں کیں۔ مذاکرات میں کشیدگی میں مزید اضافے کی روک تھام، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جاری تنازع کے جلد خاتمے کے لیے اقدامات پر غور کیا گیا۔
ایرانی قیادت نے علاقائی امن کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار اور مذاکرات، کشیدگی میں کمی اور تنازع کے پرامن حل کی کوششوں کو سراہا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ایران امریکا مذاکرات کے حوالے سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تہران کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے امریکا پر معاہدے کی شرائط پوری نہ کرنے کا الزام عائد کیا۔
محسن رضائی نے بھی واشنگٹن کے حوالے سے بداعتمادی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کو اپنا طرز عمل تبدیل کرکے معاہدے کی شرائط پر عملدرآمد کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی قیادت کو یقین دلایا کہ پاکستان خطے میں استحکام کی بحالی اور تنازع کے پرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسلام آباد کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات بحال کرانے کی کوششیں جاری ہیں۔ جون میں پاکستان کی ثالثی سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی بنیاد رکھنے کی کوشش کی گئی تھی، تاہم 17 اگست کو مقررہ 60 روزہ مدت کسی حتمی پیش رفت کے بغیر ختم ہوگئی۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ اسلام آباد فریم ورک اب بھی مذاکرات کی بحالی کے لیے بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق عاصم منیر کا دورہ دونوں ممالک کے مضبوط ہوتے تعلقات اور خطے میں امن و سلامتی کے لیے پاکستان کی ’’گڈ آفسز‘‘ کوششوں کو آگے بڑھانے کا حصہ ہے۔
تازہ سفارتی کوششوں کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق کشیدگی اور ایران پر ممکنہ مزید امریکی اقتصادی پابندیوں کے خدشات برقرار ہیں، جبکہ پاکستان ایران کے ساتھ قریبی تعلقات برقرار رکھتے ہوئے امریکا اور خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک و اقتصادی روابط میں بھی توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔