29°C Sunny

پاکستان ستمبر میں شیل گیس کے لیے افقی ڈرلنگ شروع کرے گا – 135 ٹریلین مکعب فٹ ذخائر سے توانائی خود کفالت کی امید

پاکستان کی سرکاری کمپنی آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے شیل گیس کی تجارتی پیداوار کے لیے اہم پیش رفت کرتے ہوئے ستمبر 2026 میں سندھ کے کنر ان کنونشنل-1 (KUC-1) کنویں پر افقی ڈرلنگ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ منصوبے کا مقصد زیر زمین موجود شیل گیس کے ذخائر کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے قابل استعمال بنانا اور مہنگی ایل این جی درآمدات پر انحصار کم کرنا ہے۔

او جی ڈی سی ایل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایکسپلوریشن خالد امین خان کے مطابق شیل گیس منصوبے میں ابتدائی طور پر عمودی کنواں کھودا جاتا ہے، جس کے بعد افقی ڈرلنگ اور ہائیڈرولک فریکچرنگ کے ذریعے گیس کے اخراج کی صلاحیت کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ KUC-1 کنویں پر افقی فریکنگ کا عمل ستمبر کے وسط میں شروع کیا جائے گا اور توقع ہے کہ یہ مرحلہ آئندہ سال فروری یا مارچ تک مکمل ہو جائے گا۔

او جی ڈی سی ایل کے مطابق سندھ کے حیدرآباد اور سانگھڑ اضلاع میں شیل گیس کے بڑے ذخائر موجود ہیں، جبکہ پورے انڈس بیسن میں تقریباً 135 ٹریلین مکعب فٹ شیل گیس موجود ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق زیر زمین موجود گیس کی مکمل مقدار اور تجارتی طور پر حاصل ہونے والی گیس میں فرق ہو سکتا ہے، جس کا تعین کامیاب تجربات اور پیداوار کے نتائج سے ہوگا۔

کمپنی حکام کے مطابق سانگھڑ میں تقریباً 74 ٹریلین مکعب فٹ جبکہ حیدرآباد میں 7.5 ٹریلین مکعب فٹ شیل گیس کے ذخائر کی نشاندہی کی گئی ہے۔ او جی ڈی سی ایل آئندہ پانچ برسوں میں 23 عمودی کنوؤں کے ساتھ افقی ڈرلنگ اور فریکنگ کے منصوبے پر کام کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ اگر ابتدائی تجربات کامیاب رہے تو پاکستان تین سے پانچ سال کے اندر شیل گیس کی تجارتی پیداوار شروع کر سکتا ہے۔ او جی ڈی سی ایل کے مطابق مستقبل میں پاکستان روزانہ 900 ملین اسٹینڈرڈ مکعب فٹ تک شیل گیس پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے۔

توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ شیل گیس کی کامیاب پیداوار پاکستان کے لیے درآمدی ایل این جی پر انحصار کم کرنے، زرمبادلہ بچانے اور توانائی تحفظ بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔