33°C Storm

پاکستانی صنعتوں پر بڑھتا دباؤ، ماہرین نے ٹیرف پالیسی پر نظرثانی کا مطالبہ کر دیا

پاکستان میں معاشی پالیسیوں پر جاری بحث میں ایک بار پھر اس سوال نے اہمیت اختیار کر لی ہے کہ آیا ٹیرف میں کمی، منڈیوں کو مزید کھولنے اور مقامی صنعتوں کو عالمی مسابقت کے سامنے لانے سے خودکار طور پر معاشی ترقی حاصل کی جا سکتی ہے یا نہیں۔ ماہرین معاشیات کے مطابق تجارت اور عالمی منڈیوں تک رسائی بلاشبہ اہم ہے، تاہم صرف ٹیرف میں کمی معاشی ترقی کی ضمانت نہیں بن سکتی، خصوصاً ایسے وقت میں جب مقامی صنعتیں پہلے ہی متعدد ساختی مشکلات کا شکار ہوں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کی کئی ترقی یافتہ معیشتوں نے اپنی صنعتی بنیاد مضبوط کرنے کے لیے ابتدائی مراحل میں مقامی صنعتوں کو مکمل عالمی مقابلے میں جھونکنے کے بجائے انہیں حکومتی پالیسیوں، مالی سہولتوں اور صنعتی تحفظ کے ذریعے ترقی کے مواقع فراہم کیے۔ ان کے مطابق صنعتی ترقی ایک تدریجی عمل ہے، جس کے لیے سستی توانائی، کم لاگت قرضے، جدید ٹیکنالوجی، تربیت یافتہ افرادی قوت اور مستحکم پالیسی ماحول ناگزیر ہوتا ہے۔

پاکستان کی مینوفیکچرنگ صنعت اس وقت مہنگی توانائی، بلند شرح سود، پیچیدہ ٹیکس نظام اور پالیسی غیر یقینی صورتحال جیسے مسائل کا سامنا کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب ٹیرف میں کمی کے باعث ایسی درآمدی مصنوعات سے مقابلہ بڑھ گیا ہے جو نسبتاً سازگار حالات میں تیار ہوتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس عدم توازن کے باعث مقامی صنعتوں پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے اثرات روزگار، برآمدات اور مجموعی معاشی استحکام پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے زور دیا کہ پاکستان کو ایسی متوازن صنعتی حکمت عملی اپنانا ہوگی جس میں مقامی صنعتوں کی استعداد بڑھانے، توانائی لاگت کم کرنے، طویل المدتی مالی سہولتوں کی فراہمی اور جدید مہارتوں کے فروغ کو ترجیح دی جائے تاکہ تجارت کو معاشی طاقت میں تبدیل کیا جا سکے، نہ کہ مقامی صنعتی ترقی کا متبادل بنایا جائے۔