32°C Sunny

بلوچستان کو ایران سے اضافی 100 میگاواٹ بجلی فراہم کرنے کی منظوری

پاکستان نے ایران سے مزید 100 میگاواٹ بجلی کی درآمد کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد بلوچستان کے ساحلی علاقوں کے لیے مجموعی بجلی کی فراہمی 204 میگاواٹ تک بڑھ جائے گی۔ اس فیصلے کا مقصد خاص طور پر گوادر اور قریبی اضلاع میں بجلی کی صورتحال کو بہتر بنانا ہے، جہاں قومی گرڈ سے مسلسل صرف 40 سے 45 میگاواٹ بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے 13 مئی کو سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (CPPA-G) اور ایران کی سرکاری کمپنی TAVANIR کے درمیان نظرثانی شدہ معاہدوں کی منظوری دی۔ ان معاہدوں کے تحت پہلے سے جاری 104 میگاواٹ بجلی کی درآمد جاری رہے گی جبکہ پولان-گبد ٹرانسمیشن کوریڈور کے ذریعے اضافی 100 میگاواٹ فراہم کی جائے گی۔

حکام کے مطابق اس اضافی بجلی کی فراہمی سے گوادر، جیوانی اور مکران ڈویژن کے دیگر علاقوں میں توانائی کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس مقصد کے لیے پاکستان 28 کلومیٹر طویل 230 کے وی ڈبل سرکٹ ٹرانسمیشن لائن تعمیر کرے گا جو ایرانی سپلائی کو جیوانی اور گوادر انفراسٹرکچر سے منسلک کرے گی، جبکہ ایران اپنی جانب سے 230 کے وی نیٹ ورک کے ذریعے بجلی فراہم کرے گا۔

نیپرا نے درآمدی بجلی کے لیے آئل سے منسلک نئی ٹیرف فارمولے کی بھی منظوری دی ہے، جس کے تحت بنیادی قیمت 3.6 امریکی سینٹ فی یونٹ مقرر کی گئی ہے جبکہ ماہانہ اوپیک آئل باسکٹ قیمت کے مطابق اضافی چارجز شامل ہوں گے۔ 60 ڈالر فی بیرل تیل کی قیمت کی بنیاد پر بجلی کی مجموعی لاگت تقریباً 8.4 سینٹ فی یونٹ تک پہنچ سکتی ہے۔

اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ بغیر ایرانی بجلی کے قومی گرڈ گوادر کو صرف 40 سے 45 میگاواٹ مسلسل بجلی فراہم کر سکتا ہے۔ حکام نے بتایا کہ وولٹیج استحکام بہتر بنانے کے لیے مختلف گرڈ اسٹیشنز پر شَنٹ ری ایکٹرز اور آٹومیٹک وولٹیج ریگولیٹرز نصب کیے جا چکے ہیں۔

نیپرا نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ چھ ماہ کا تفصیلی روڈ میپ تیار کریں جس میں مستقبل کی بجلی کی ضروریات، نظام کی بہتری، مقامی پیداوار اور قومی گرڈ کے انضمام کے منصوبے شامل ہوں تاکہ بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں توانائی کی طویل مدتی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔